خطبات محمود (جلد 19) — Page 138
خطبات محمود ۱۳۸ سال ۱۹۳۸ ء بنو گے اور دوسری طرف بے غیرت بھی نہیں بنو گے ۔ پس دنیا کو اپنا نیک نمونہ دکھاؤ اور اپنی اولادوں کو بھی نیک بنانے کی کوشش کرو اور سزا کے معاملہ میں یہ امر یاد رکھو کہ اسے کم سے کم حد تک اور کم سے کم عرصہ کیلئے جاری کرو۔ ہاں اپنے رحم کو وسیع کرو اور اس حد تک کرتے چلے جاؤ جب تک رحم کرنا بے غیرتی کا موجب نہ ہو جائے مگر اس کے ساتھ ہی اس امر کو ملحوظ رکھو کہ نافرمانی کرنا بھی جرم ہے۔ پس اگر کسی کے متعلق کسی سزا کا اعلان ہوتا ہے تو تمہارا فرض ہے کہ اس حکم کی تعمیل کرو کیونکہ جس کو خدا نے ایک کام کیلئے مقرر فرمایا ہے تمہارا کام نہیں کہ اُس کے احکام پر نکتہ چینی کرو۔ اور اگر تم اس کے احکام پر جرح کرو گے اور ان کی تعمیل میں کوتاہی سے کام لو گے تو تم نا فرمان قرار پاؤ گے اور نافرمان بھی ظالم ہی ہوتا ہے ۔ پس تم نہ تو نافرمانی کی حد تک جاؤ نہ بے غیرتی یا ظلم کی حد تک جاؤ بلکہ رحم کرو اور رحم میں وسعت اختیار کرو۔ کیونکہ خدا نے رحم کیلئے وسیع میدان بنایا ہے اور سزا کیلئے تنگ ۔ وہ خود کہتا ہے رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ 20 پس بنی نوع انسان پر رحم زیادہ سے زیادہ ہو اور سزا کم سے کم ۔ اس گر کے ماتحت تم اپنے تمام کام لاؤ اور فرمانبرداری اور اطاعت اختیار کرو اور جب دشمن کی طرف سے کوئی بُری بات سنو تو دل میں استغفار کروتا اللہ تعالیٰ تم کو تو بے غیرت ہونے سے بچائے اور اللہ تعالیٰ تم کو ظالم ہونے سے بھی محفوظ رکھے ۔“ ا منبت : جائے روئیدگی ۔ بنیاد کیپٹ: بغض ۔ عداوت ۔ دشمنی ۔حسد النور : ٢٠ ، ك النساء : ۴۴ 66 الفضل ۹ مارچ ۱۹۳۸ء ) النساء : ۸۴ ه الضحى : ١٢ وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ الهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوا عَاهُ وَلَا يَغُوْثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا ( نوح : ۲۴) الاعراف: ۱۵۷