خطبات محمود (جلد 19) — Page 139
خطبات محمود ۱۳۹ 1۔سال ۱۹۳۸ شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کی کذب بیانیوں کا ایک نمونہ فرموده ۱۱ مارچ ۱۹۳۸ء) تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - اللہ تعالیٰ مؤمنوں کے ایمان کی زیادتی کیلئے ہمیشہ ایسے سامان پیدا کرتا رہتا ہے جو اُن کو صراط مستقیم پر قائم رکھتے اور اُن کے ایمانوں کو بڑھاتے رہتے ہیں۔جو لوگ تو ظاہر اور باطن میں یکساں ہوتے ہیں اور ان کے دلوں کا ایمان ان کی زبانوں کے دعووں کے مطابق ہوتا ہے ایسے امور ان کے ایمان میں چلا پیدا کرتے ہیں اور ان کی روحانیت کو ترقی دیتے ہیں لیکن جن کے دلوں میں ایمان ان کی زبانوں کے دعووں کے مطابق نہیں ہوتا اور ان کا ایمان زبان کی نوک تک ہی رہ جاتا ہے اور ان کے دل ویران ہوتے ہیں ان کیلئے وہی چیز ٹھوکر کا موجب ہو جاتی ہے۔چونکہ یہ قدیم سے الہی سنت چلی آتی ہے کہ خدا ئی نشان ، خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی کتابیں ، خدا تعالیٰ کے مامور اور مرسل اور خدا تعالیٰ کے دین کی تائید اور مدد میں کھڑے ہونے والے انسان سب اپنے اندر یہ صفت رکھتے ہیں کہ يُضل به كَثِيراً وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ما دنیا میں خدا تعالیٰ کا کوئی ایسا مامور نہیں آیا جو بعض لوگوں کی ٹھوکر کا موجب نہ ہو ا ہو۔خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب ایسی نہیں آئی جو بعض کی گمراہی کا موجب نہ ہوئی ہو۔خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کیلئے کوئی شخص کھڑا نہیں ہوا خواہ وہ مامور ہو یا غیر مامور، جو بعض لوگوں کی