خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 111

خطبات محمود 111 سال ۱۹۳۸ء اللہ تعالیٰ مجھے بھی صحیح نتیجہ پر پہنچنے کی توفیق دے اور جو نمائندے آئیں ان کو بھی۔مجلس شوری کے نمائندوں کے علاوہ میرے ساتھ تعلق کی بناء پر ہر شخص مجھے مشورہ دے سکتا ہے اور جب ایجنڈا شائع ہو جائے تو جو سمجھے کہ ان میں سے کسی امر کے متعلق وہ اپنے تجر بہ یا علم کی بناء پر کوئی مشورہ دے سکتا ہے تو اسے چاہئے کہ دے دے۔مجلس شوری کے موقع پر تو میری حیثیت اس مجلس کے صدر کی بھی ہوتی ہے اور اُس وقت انہی سے مشورہ لے سکتا ہوں جو وہاں موجود ہوں ، دوسروں سے نہیں لیکن وہاں سے باہر نکلتے ہی ہر احمدی کا تعلق مجھ سے ویسا ہی ہے جیسا کہ کسی نمائندہ کا اس لئے جو چاہے مجھے مشورہ دے سکتا ہے۔۔میں سمجھتا ہوں ہمارے کاموں میں کئی قسم کی اصلاحوں کی ضرورت ہے۔بعض مجبوریاں بھی درپیش ہیں جن کے ماتحت بعض کاموں کی شکلیں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ ہماری مشکلات بڑھتی جائیں گی اور یا پھر ہماری کامیابی میں تاخیر ہوتی جائے گی۔بعض باتیں اپنی ذات میں اچھی ہوتی ہیں مگر مجبوریاں انہیں چھڑا دیتی ہیں اور بعض مفید ہوتی ہیں مگر ان پر کی عمل کا وقت نہیں آیا ہوتا۔پس ہمیں اللہ تعالیٰ پر نگاہ رکھتے ہوئے اپنے کاموں میں آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس سلسلہ میں اگر بعض کا موں کی صورت میں تبدیلی بھی کرنی پڑے تو کرنی چاہئے۔نیکی ہمیشہ موقع کے مطابق ہوتی ہے۔مثلاً روزہ بے شک ترقی کا موجب ہے لیکن جہاد کے موقع پر ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کی بے روزہ روزہ داروں سے بڑھ گئے لے کیونکہ روزہ دار تو روزے کھول کر مُردوں کی طرح پڑ گئے اور جن کے روزے نہیں تھے انہوں نے خیمے وغیرہ لگائے ، جانوروں کو باندھا، اُن کے لئے چارہ وغیرہ کا انتظام کیا اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج بے روز روزہ داروں سے بڑھ گئے۔پس ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے اور کوئی نیکی ایسی نہیں جو ہر وقت ضروری ہو سوائے محبت الہی کے۔یہ ایک ایسی چیز ہے جو کبھی بدل نہیں سکتی۔باقی سب نیکیاں ایسی ہیں کہ ان میں تبدیلی کی صورتیں پیدا ہوسکتی ہیں۔نما ز کسی وقت تو نہایت ہی ضروری چیز ہے مگر کسی وقت یہی گمراہی کا موجب ہو جاتی ہے۔اسی طرح روزہ ہے، حج بھی اعلیٰ درجہ کی نیکی ہے۔مگر کسی وقت یہ بے ادبی کا موجب ہو جاتا ہے۔صدقہ و خیرات نیکی ہے مگر کسی وقت یہی کی