خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 110

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء اور یہ امید نہیں رکھنی چاہئے کہ وہ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلّ شَيْء دل کے ماتحت ہم سے سلوک کرے گا۔ہماری لاکھوں خطائیں اور گناہ ایک تو بہ سے معاف کر دے گا۔کوئی آقا ایسا کی نہیں ہوسکتا کہ تم اس کا کروڑ روپیہ کا نقصان کر دو اور پھر یہ کہہ کر کہ اچھا جی معاف کر دیں ، اس سے معافی بھی لے لو لیکن کوئی انسان جو ساری عمر اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کرتا رہتا ہے اگر مرنے کی سے کچھ دیر پہلے بھی کچی تو بہ کرے اور اپنے اعمال پر ندامت کا اظہار کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دیتا ہے۔کوئی آقا اپنے ملازم کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں کرتا۔یہ محب اور محبوب والا معاملہ ہے مُحب اور محبوب دونوں کو یہ لو لگی ہوتی ہے کہ ایک دوسرے سے مل جائیں ، خواہ کسی طرح ملیں اور چاہے ان میں سے کسی کو د بنا ہی کیوں نہ پڑے۔اس لئے جب انسان کسی وقت بھی یہ خواہش کرتا ہے کہ میں اپنے خدا سے ملنا چاہتا ہوں تو خدا تعالیٰ جھٹ اسے اپنے سینہ سے ! چھٹا لیتا ہے۔کوئی جرنیل کسی بادشاہ کا کوئی علاقہ دشمن کے ہاتھ بیچ دے اور پھر آ کر کہے کہ مجھے معاف کر دیا جائے تو بادشاہ اسے کبھی معاف نہیں کرے گا بلکہ فوراً اسے پھانسی پر لٹکا دے گا لیکن خدا تعالیٰ کا بندہ کتنا بھی نقصان کرنے کے بعد جب خدا تعالیٰ کے دربار میں پہنچتا ہے تو وہ کہتا و ہے کہ اچھا تم سے جو نقصان ہوا اس کا انتظام میں خود کرلوں گا اور تمہیں معاف کرتا ہوں۔پس جماعت کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہئے اور کارکنوں کو بھی۔کارکنوں کو اپنے کام کی بنیاد اس امر پر نہ رکھنی چاہئے کہ ہم اتی تنخواہ اور اتنا گر یڈلیں گے اور جماعت کو اپنے تعلقات کی بنیا دبھی اس امر پر نہ رکھنی چاہئے کہ ہم اتنے آنے یا اتنے پیسے چندہ دیں گے کیونکہ سوال آنوں یا پیسوں کا نہیں بلکہ ضرورت کا ہے۔جب ضرورت کم ہو کم دیں اور جب زیادہ ہوزیادہ دیں۔اس کے بعد میں اس امر کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ میں جماعت کی اصلاح کے متعلق بعض اور باتوں پر بھی غور کر رہا ہوں اور میرا ارادہ ہے کہ انہیں مجلسِ شوریٰ میں پیش کروں اور احباب سے ان کے متعلق مشورہ لوں۔ان باتوں میں سے بعض نتائج کے لحاظ سے اور بعض ضرورت کے لحاظ سے نہایت اہم ہیں۔ممکن ہے جماعت کے مشورہ کے ماتحت میں ان میں کوئی تبدیلیاں بھی کروں لیکن بہر حال بعض نہایت اہم سوالات میرے سامنے ہیں جن کے متعلق میں مشورہ لینا چاہتا ہوں۔اس کے متعلق دوستوں کو دعائیں کرنی چاہئیں کہ