خطبات محمود (جلد 19) — Page 112
خطبات محمود ١١٢ سال ۱۹۳۸ء تباہی و بربادی کا موجب ہو جاتی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فویل المُصلين الذينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ ٣ یعنی جو لوگ اس خیال سے نمازیں پڑھتے ہیں کہ لوگ دیکھ کر کہیں گے کہ یہ بڑے نمازی ہیں ، ان کی نماز لعنتی نماز ہے اور وہ لعنت بن کر نمازی پر گرتی ہے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سورج نکلنے اور سورج ڈوبنے کے وقت جو نماز پڑھتا ہے وہ شیطان ہے۔کے اسی طرح روزہ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو عید کے روز روزہ رکھے وہ شیطان ہے۔شا گویا ایک دن ایسا آجاتا ہے جب کھانا پینا مقدم ہو جاتا ہے۔اسی طرح حج کے متعلق ہے۔اور عمرہ کے متعلق بھی کہ وہ زیارت مکہ مکرمہ ہے۔مثلا صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان کو مکہ والوں کے پاس بھیجا کہ انہیں اس بات پر آمادہ کریں کہ مسلمانوں کو عمرہ کر لینے دیں مگر مکہ والوں نے کہا کہ ہم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور دوسرے مسلمانوں کو تو اجازت نہیں دے سکتے مگر آپ چونکہ آگئے ہیں اور ہمارے رشتہ دار اور مہمان ہیں اس لئے آپ کر سکتے ہیں لیکن حضرت عثمان نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں ہرگز اسے پسند نہیں کرتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو ممانعت ہو اور میں عمرہ کرلوں نے اب دیکھو ان کیلئے عمرہ یعنی طواف بیت اللہ کا موقع تھا مگر آپ نے اس سے فائدہ اٹھانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کر سکتے تو میں بھی کی نہیں کرتا۔پھر صدقہ و خیرات ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہوتے ہیں۔یعنی وہ مبذ رجو مال و دولت لگاتے وقت یہ خیال ہی نہیں کرتے کہ وہ کس طرح کی اندھا دھند خرچ کر رہے ہیں وہ صرف دینا ہی جانتے ہیں ان کو اخوان الشَّیولین کے فرمایا ہے۔گویا یہ ثابت ہو گیا کہ نماز بھی شیطانی فعل بن سکتا ہے۔روزہ بھی اور تبذیر بھی یعنی بے تحا شا خرچ کرنا، خواہ صدقہ کے طور پر ہی کیوں نہ دے دیا جائے۔تو تین نیکیوں کے متعلق تو ی شریعت اور شارع کے صریح الفاظ سے ثابت ہو گیا کہ اگر بعض وقت وہ فرض ہیں تو دوسرے اوقات میں گناہ کا موجب۔حج کے متعلق صریح الفاظ میں مثال نہیں ملتی مگر ایسے مواقع ہو سکتے ہیں