خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 100

خطبات محمود ۱۰۰ سال ۱۹۳۸ ء حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق بارہا یہ فرمایا ہے کہ انہوں نے جنت خرید لی اور وہ جنتی ہیں اور ایک دفعہ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے دوبارہ بیعت لی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اُس وقت موجود نہ تھے تو آپ نے اپنا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھا اور فرمایا یہ عثمان کا ہاتھ ہے میں اس کی طرف سے اپنے ہاتھ پر رکھتا ہوں متا ہوں ۔ اس طرح آپ نے اپنے ہاتھ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دیا ہے اور پھر ایک دفعہ آپ سے فرمایا اے عثمان ! خدا تعالیٰ تجھے ایک قمیص پہنائے گا۔ منافق چاہیں گے کہ وہ تیری اس قمیص کو اُتار دیں مگر تو اُس قمیص کو اُتار یونہیں ۔ اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہیں کہ اُس قمیص کو نہ اُتارنا اور جوتم سے اس قمیص کے اُتارنے کا مطالبہ کریں گے وہ منافق ہوں گے ۔ مگر مصری صاحب محض میری مخالفت میں آج یہ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان سے عزل کا مطالبہ کرنے والے حق پر تھے اور غلطی پر حضرت عثمان ہی تھے ۔ یہ ویسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی پٹھان کنز پڑھ رہا تھا۔ اس میں اس نے یہ لکھا دیکھا کہ حرکت سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ اس کے بعد ایک دن جب وہ حدیث کا سبق لے رہا تھا تو اتفاقاً یہ حدیث آگئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ نے اپنے ایک نواسہ کو اُٹھا لیا تو تو وہ وہ یہ یہ حدیث پڑھتے ھتے ہی کہنے لگا گا کہ کہ خوه محمد صاحب کا کا نہ نماز ٹوٹ گیا۔ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو یہ فرماتے ہیں کہ خدا تجھے خلافت کی قمیص پہنائے گا اور تو اس کا قائم کردہ خلیفہ ہوگا اور جو لوگ تجھ سے عزل کا مطالبہ کریں گے وہ منافق ہوں گے مگر مصری صاحب کہتے ہیں کہ نہیں وہ خدا کے قائم کر دہ خلیفہ نہیں تھے اور جنہوں نے آپ سے عزل کا مطالبہ کیا وہی حق پر تھے ۔ گویا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی بات تو نعوذُ بِالله جھوٹ ہوئی لیکن منافق جو کچھ کہہ رہے تھے وہ سچ تھا اور اصل مومن وہی تھے کیونکہ ان کے نزدیک خدا اور رسول کا کیا ہے وہ تو دو ہوئے اور منافق بہت سے تھے اور دو کی رائے اکثریت کے مقابلہ میں کمیٹیوں میں کہاں مانی جاتی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے قربانیاں آتی ہیں اور ان قربانیوں کے نتیجے کبھی مل جاتے ہیں اور کبھی نہیں ملتے ۔ یہی صحابہ میں نظر آتا ہے اور یہی طریق عمل ہمیں اختیار کرنا پڑے گا ۔ یہ طریق