خطبات محمود (جلد 19) — Page 99
خطبات محمود ۹۹ سال ۱۹۳۸ یہ بھی نظر آتا ہے کہ بعض دفعہ انہوں نے اپنی جائیدادیں بیچ کر دوسروں پر خرچ کر دیں اور ان کی کیلئے تمام ضروریات مہیا کیں۔چنانچہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ نے فرمایا کہ فلاں سفر پر ہماری فوج جانے والی ہے مگر مومنوں کے پاس کوئی چیز نہیں۔کیا کوئی تم میں سے ہے جو ثواب حاصل کرے؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ یہ سنتے ہی اُٹھے اور آپ نے اپنا اندوختہ نکال کر وہ رقم مسلمانوں کے اخراجات کیلئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ دیکھا تو فرمایا عثمان نے کی جنت خرید لی۔اسی طرح ایک دفعہ ایک کنواں بک رہا تھا۔مسلمانوں کو چونکہ اُن دنوں پانی کی بہت تکلیف تھی اس لئے آپ نے اس موقع پر پھر فرمایا کوئی ہے جو ثواب حاصل کرے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں۔چنانچہ آپ نے وہ کنواں خرید کری مسلمانوں کیلئے وقف کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ عثمان نے جنت خرید لی۔اسی طرح ایک اور موقع پر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق یہی الفاظ کہے۔غرض تین موقعے ایسے آئے ہیں جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا کہ انہوں نے جنت خرید لی ہے۔گو مسلمانوں کی کی بدقسمتی یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ جب وہ کسی شخص سے مخالفت کرتے ہیں تو اس کی مخالفت میں دوسرے بزرگوں پر بھی حملہ کر دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص مجھ پر حملہ کرے گا اس کے حملہ کی زد تمام انبیاء پر پڑے گی۔اسی طرح جو شخص ایک خلیفہ پر حملہ کرتا ہے وہ دراصل سارے خلفاء پر حملہ کرتا ہے۔چنانچہ میں نے دیکھا ہے کہ قریب کے عرصہ میں مصری صاحب نے ایک کی اشتہار شائع کیا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جب فلاں فلاں غلطیاں کیں اور مسلمانوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ خلافت سے دست بردار ہو جائیں تو گوانہوں نے الگ ہونے سے انکار کر دیا مگر مسلمانوں نے تو بہر حال ایک رنگ میں انہیں معزول کر ہی دیا۔گویا حضرت عثمان اسی بات کے مستحق تھے کہ خلافت سے معزول کئے جاتے