خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 94

خطبات محمود ۹۴ سال ۱۹۳۸ء اس نے روپیہ کی بجائے ٹھیکریاں دی ہیں تو اس کا غصہ بھڑک اٹھے گا اور وہ کہے گا کہ تم نہ صرف خائن ہو بلکہ میری ہتک بھی کرتے ہو۔اسی طرح وہ انسان جو خدا تعالیٰ کے انبیاء کا انکار کرتے ہیں وہ تو ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے کسی کے پاس کوئی امانت رکھے اور وہ بعد میں کسی دوسرے وقت اپنی امانت لینے جائے تو کہہ دے کہ میں نے آپ کا کچھ نہیں دینا۔وہ بھی کہتے ہیں کہ ہم نے خدا کا کچھ نہیں دینا۔اسی طرح وہ بھی مجرم ہوتے ہیں جو یہ تو مان لیتے ہیں کہ ہم نے خدا تعالیٰ کا دینا کی ہے مگر کہتے ہیں ہمیں اس بات پر اعتبار نہیں کہ تمہیں خدا تعالیٰ نے بھیجا ہے۔جب خدا تعالیٰ خود ہمارے پاس آئے گا تو ہم اسے امانت دے دیں گے۔حالانکہ جب اس نے بندوں کے پاس امانت رکھی تھی اُسی وقت کہ دیا تھا کہ میں خود یہ امانت لینے نہیں آؤں گا بلکہ میرے رسول آئیں گے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ایسے لوگ بھی مجرم ہیں اور پھر ایسوں کے پاس کی اللہ تعالیٰ خود آتا ہے مگر اپنی امانت لینے کیلئے نہیں بلکہ انہیں تباہ کرنے کیلئے۔چنانچہ فرمایا اتى اللهُ بُنْيَانَهُمْ ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ ان کے دروازوں پر اپنی امانت مانگنے نہیں آتا بلکہ ان کی بنیادوں اور جڑوں پر اپنے قہر کی بجلی گرانے آتا ہے۔لیکن ان دو کے علاوہ ایک تیسری جماعت بھی ہوتی ہے جس وقت خدا تعالیٰ کا کوئی پیغامبر آتا ہے وہ آگے بڑھتے ہیں اور کی کہتے ہیں سُبحَانَ اللهِ ہم پر امانت کا ایک زبر دست بوجھ تھا اور ہم تو اس بات کی امیدیں لگائے بیٹھے تھے کہ کوئی امانت لینے والا آئے تو اسے امانت سپر د کر کے اپنے فرض سے سبکدوش کی ہو جائیں۔سوخدا کا شکر ہے کہ آپ آگئے۔یہ اقرار جو وہ کرتے ہیں اسی کا نام بیعت ہوتا ہے۔چنانچہ بیعت کے یہی معنے ہیں کہ ہم نے تسلیم کر لیا کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ ہمارا نہیں بلکہ آپ کا ہے۔جس طرح کسی کے نام پٹہ لکھ دیا جاتا ہے یا بعض لوگ کسی اور کو اپنا ایجنٹ بنا دیتے ہیں اسی طرح بیعت ایک پٹہ اور ایک اقرار ہوتا ہے اس امر کا کہ ہماری ہر چیز کا مالک خدا ہے اور تم اس کے نمائندہ اور ایجنٹ ہو اور تم اس بات کا حق رکھتے ہو کہ جس وقت چاہو اپنی چیز کا ہم سے مطالبہ کر لو مگر جب انہی لوگوں سے امانت مانگی جاتی ہے تو وہ بجائے رو پید اور قیمتی جواہر پیش کرنے کے ٹھیکریاں اور کوڑیاں اور اسی طرح کی اور ذلیل اور گندی چیز میں اسے چھپا کر دینا چاہتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ہم لوگوں کے سامنے سر خرو بھی ہو جائیں کہ ہم نے امانت ادا کر دی اور کی