خطبات محمود (جلد 19) — Page 93
خطبات محمود ۹۳ سال ۱۹۳۸ جو ہم کو ملا ہے یہ سب چیزیں خدا تعالیٰ کی ہیں اور گو بظاہر یہ ہمارے قبضہ میں ہیں مگر کون کہہ سکتا تج ہے کہ یہ چیزیں ہم نے بنائی ہیں۔ہمارے پیدا ہونے سے لاکھوں سال پہلے یہ تمام چیزیں موجود تھیں جو پہلوں سے ہماری طرف منتقل ہوئیں اور ان کو ان سے پہلوں سے ملیں اور ان کو ان سے بھی پہلوں سے ملیں اور اس طرح یہ سلسلہ چلتا چلا گیا۔پس یہ تمام نعمتیں ہماری تمہاری نہیں بلکہ خدا نے ہمیں دی ہیں اور پھر ان نعمتوں کے استعمال کے متعلق اس نے کچھ قوانین مقرر کی کئے ہیں اور بعض حد بندیاں مقرر کی ہیں کہ اس حد تک ان چیزوں کو اپنی ذات پر استعمال کر سکتے ہیں اور اس حد تک خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت یا بنی نوع انسان کی بہبودی کیلئے تمہیں استعمال کرنی چاہئیں۔دنیا میں کئی ایسے لوگ ہیں جو اس ذمہ داری کو قبول کر لیتے ہیں اور کئی ایسے بھی ہیں جو قبول نہیں کرتے۔جب خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں کوئی مامور آتا ہے تو جو لوگ اسے نہیں مانتے وہ ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے ایک شخص نے کسی دوسرے کے پاس اپنی امانت رکھی مگر جب وہ امانت لینے کیلئے آیا تو اس نے کہہ دیا کہ میں امانت نہیں دیتا جاؤ اپنے گھر بیٹھو مگر کچھ لوگ کی ایسے ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے مامور کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔وہ اقرار کرتے ہیں کہ انہیں جس قدر چیزیں ملی ہیں یہ ان کی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی ہیں مگر پھر وہ عہد شکنی کرتے ہیں اور دھو کہ بازی سے کام لیتے ہیں۔ان کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص کسی کے پاس مثلاً ہزار روپے امانت رکھے اور جب وہ روپیہ لینے کیلئے آئے تو یہ بڑے اکرام اور اجلال کے ساتھ پیش آئے ، اپنی مسند پر اسے بٹھائے اور کہے آئیے تشریف لائیے۔میں تو آپ کا ہی شب و روز انتظار کر رہا تھا، شکر ہے کہ آپ آگئے اور میں امانت کے فرض سے سبکدوش ہوا اور یہ کہہ کر وہ اندر جائے اور تھیلی میں بجائے روپیہ کے مٹی کی ٹھیکریاں بھر کر اس کے سامنے رکھ دے اور کہہ دے لیجئے یہ آپ کا ہزار روپیہ ہے۔کیا تم سمجھتے ہو کہ اس کے صرف یہ کہہ دینے سے کہ میرے ذمہ آپ کی امانت ہے آئیے آپ اپنی امانت لے لیں ، وہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جائے گا چاہے تھیلی میں روپیہ کی بجائے ٹھیکریاں ہی بھر کر پیش کر دے۔اور کیا تم خیال کرتے ہو کہ جس نے اس کے پاس امانت رکھی تھی وہ بڑا خوش ہوگا اور کہے گا کہ اس نے روپیہ دینے کا اقرار تو کیا اور کوئی نہ کوئی چیز بھی مجھے دے دی۔یقیناً وہ کبھی خوش نہیں ہوگا بلکہ جب دیکھے گا کہ