خطبات محمود (جلد 19) — Page 95
خطبات محمود ۹۵ سال ۱۹۳۸ء چیز بھی ہمارے پاس رہے۔مگر کون کہہ سکتا ہے کہ انہوں نے امانت ادا کی ، کون کہہ سکتا ہے کہ خدا ان کے اس فعل پر خوش ہوگا۔یقیناً خدا ان پر ناراض ہوگا بلکہ دوسروں سے زیادہ ناراض ہوگا اور کہے گا کہ تم سے جب میں نے امانت مانگی تو تم نے عملاً فریب کاری سے کام لیتے ہوئے چاہا کہ مجھے دھوکا دو۔پس تم نے نہ صرف خیانت کی بلکہ ہمارے نمائندہ کی بہتک بھی کی ہے۔تو یہ طریق کامیابی کا نہیں۔یہ مکان میں اس کے دروازہ سے داخل ہونے کا طریق نہیں بلکہ سیندھ کی لگا کر اندر داخل ہونے کا طریق ہے۔یہ ایسا ہی طریق ہے کہ جیسے کوئی کہے میں اندھیری رات میں ہزار مصیبتوں کے بعد بڑی محبت اور پیار سے فلاں کے مکان کے پاس آیا تھا اور چاہا تھا کہ سیندھ لگا کر اندر داخل ہو جاؤں مگر اس نے چور چور کہہ کر مجھے پکڑوا دیا۔بھلا دنیا میں اس سے زیادہ اور کیا اندھیر ہو گا کہ میں اتنی محبت سے آیا اور اس نے مجھے پولیس کے سپرد کر دیا۔ہر شخص اسے کہے گا کہ تو دھوکا اور فریب سے کام لے رہا تھا اگر ملنے کیلئے آیا تھا تو چاہئے تھا کہ دروازہ سے داخل ہوتا مگر جب تو دروازہ سے داخل نہیں ہوا بلکہ تو نے سیندھ لگانی شروع کر دی تو اس کا کی صاف یہ مطلب تھا کہ تو چاہتا تھا کہ اندھیری رات میں جو مال ملے اسے ہتھیا لے۔تو ایسا انسان مجرم ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے غضب کو اپنے اوپر بھڑ کا تا ہے جو صحیح طریق اختیار نہیں کرتا۔اب میں اپنی جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ ہماری جماعت کے دوست غور کریں کہ ان کی میں سے ہر شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر یا اگر اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھنے کا موقع نہیں ملا تو اس نے آپ کے خلفاء کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اس امر کا اقرار کیا ہے کہ جو کچھ میرا ہے وہ میر انہیں بلکہ خدا کا ہے۔میں اس کی ملکیت کو تسلیم کرتا اور اس کے ایجنٹ اور مختار کے ہاتھ پر اقرار کرتا ہوں کہ اس کے دین کی خدمت کے لئے جس قسم کی قربانیوں کی ضرورت ہوگی ان تمام قربانیوں میں حصہ لوں گا ، اس کے تمام احکام کو قبول کروں گا ، اسلام کے احیاء کیلئے ہمیشہ کوشاں رہوں گا اور اپنی اور اپنے رشتہ داروں کی تمام زندگی اسلام کی ترقی کیلئے لگادوں گا۔اب آپ لوگ غور کریں کہ کیا واقعہ میں ہم میں سے ہر شخص اس امانت کو ادا کر رہا ہے؟