خطبات محمود (جلد 19) — Page 858
خطبات محمود ۸۵۸ سال ۱۹۳۸ء انہیں ہم پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔میں جانتا ہوں کہ اگر ہماری طرف سے اس قسم کے جواب دیئے گئے تو تھوڑے ہی دنوں میں ان کی جماعت چیخ پڑے گی۔یہ محض میری شرافت ہے کہ بیس سال سے جو باتیں میں ان کے متعلق ان کے خاندان کے متعلق اور ان کی جماعت کے متعلق سنتا چلا آ رہا ہوں انہیں میں نے کبھی ظاہر نہیں کیا۔کیونکہ میں کہتا ہوں کہ جس بات کو میں اپنے متعلق ناجائز سمجھتا ہوں میرا کوئی حق نہیں کہ میں اسے دوسروں کے متعلق جائز قرار دوں۔کی یہی اسلام نے ہمیں سبق سکھایا ہے اور اس سبق کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے کی ہمیں تعلیم دی ہے۔پس میں ایسی باتوں کو نہ اپنے متعلق جائز سمجھتا ہوں اور نہ ان کے متعلق جائز سمجھتا ہوں مگر چونکہ وہ متواتر اس قسم کے حملے ہم پر کرتے چلے آئے ہیں اور کرتے چلے جارہے ہیں۔اس لئے میں انہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ خود شیشے کے محل میں بیٹھے ہیں۔کہتے ہیں شیش محل میں بیٹھ کر دوسرے پر پتھر مارنا کوئی عقلمندی نہیں ہوتی کیونکہ اگر دوسرے نے بھی پتھر مارنے کی شروع کر دیئے تو اس کا شیش محل چکنا چو رہو جائے گا۔پس اگر وہ سمجھتے ہیں کہ کسی مخالف یا مرید کہلانے والے یا ہم عقیدہ کا کوئی اعتراض بیان کرنا جائز ہوتا ہے اور لوگوں کو اس بات کا حق حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ اسے درست سمجھتے ہوئے پھیلائیں اور یہ کہنا شروع کر دیں کہ تمام جماعت بگڑ گئی ہے اب نیکی اور تقویٰ کا تو نام و نشان تک نہیں رہا تو پھر مہربانی کر کے وہ چھینیں نہیں اگر ان کے متعلق ایسی ہی باتیں ہماری طرف سے شائع کر دی جائیں۔باقی رہا ان کا یہ کہنا کہ مرید ایسی باتیں کہتے ہیں سو مولوی صاحب نے اس امر کے بیان کرنے میں بھی دیانت سے کام نہیں لیا کیونکہ مولوی صاحب کو معلوم ہے کہ مصری صاحب خلافت کے اس رنگ میں منکر ہیں جس رنگ میں ہم قائل ہیں اور جب انہیں ہم سے اختلاف مذہبی پیدا ہو چکا ہے تو ان کی ظاہری بیعت جو ارتداد سے پہلے تھی بیعت نہیں کہلا سکتی۔باقی رہا کام تو ان کے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اگر ان کا ایک مبلغ ہندوستان سے باہر کام کر رہا ہے تو ہمارے تمیں چالیس مبلغ کام کر رہے ہیں۔رہا قرآن مجید کا ترجمہ تو اس کے متعلق میں اُن سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے ترجمہ کی تاریخ کو دنیا کے سامنے لانے سے نہیں شرماتے تو ہم اس سوال کو بھی دینا کے سامنے لانے کے لئے تیار ہیں۔ہمارے ترجمہ میں