خطبات محمود (جلد 19) — Page 859
خطبات محمود ۸۵۹ سال ۱۹۳۸ء بے شک دیر ہو گئی ہے مگر اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ مولوی شیر علی صاحب کی صحت ایسی نہ تھی کہ وہ اس کام کو جلد کر سکتے اور ترجمہ کا شائع کرنا ہی اصل کام نہیں ترجمہ تو خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی شائع نہیں کیا۔ہاں علم قرآن کے بارے میں مولوی صاحب کو بار بار مقابلہ کا چیلنج دے چکا ہوں اور اب پھر کہتا ہوں کہ اگر انہیں علم قرآن کا دعوی ہے تو وہ میرے سامنے بیٹھ جائیں اور تفسیر نویسی میں مجھ سے مقابلہ کر لیں لیکن وہ کبھی بھی اس طرف نہیں آتے اور مجھے یقین ہے کہ اب بھی نہ آئیں گے وہ ہمیشہ ہی اِدھر اُدھر کی باتیں کر کے ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ یہ بالکل سیدھی سادی بات ہے ایک رکوع یا ایک سورۃ قرعہ کے ذریعہ نکال لی جائے۔پھر اس کی تفسیر وہ بھی لکھیں اور میں بھی لکھتا ہوں۔اس تفسیر کو شائع کر دیا جائے پھر دنیا کو خود بخود معلوم ہو جائے گا کہ علم کے دروازے کس پر کھولے گئے ہیں اس میں زیادہ شرائط کی بھی ضرورت نہیں۔امن کے قیام کی ایک شرط رکھ لی جائے اور بالمقابل بیٹھ کر کسی کی رکوع یا کسی سورۃ کی تفسیر لھنی شروع کر دی جائے۔بعد میں وہ دونوں شائع کر دی جائیں لوگ خود بخود فیصلہ کر لیں گے کہ معارف قرآن کس پر کھولے گئے ہیں۔مگر سابقہ تجربہ بتاتا ہے کہ جب بھی تفسیر نویسی میں مقابلہ کا ذکر شروع ہو وہ ایسی شرائط پیش کرنے لگتے ہیں جن کا تفسیر نویسی سے کچھ بھی تعلق نہیں ہوتا بلکہ محض ایک اکھاڑہ جمانا مقصود ہوتا ہے حالانکہ تفسیر نویسی کے کام میں زیادہ تر آسانی انہیں حاصل ہے کیونکہ وہ قرآن کریم کی ایک تفسیر پہلے سے لکھ چکے ہیں مگر میں نے کوئی تفسیر نہیں لکھی۔پس وہ ظاہری حالات کے مطابق تفسیر کے لکھنے پر زیادہ قادر ہیں۔ایسی ، تفسیر دنیا میں جب شائع ہو جائے گی لوگ خود بخود فیصلہ کر لیں گے کہ زیادہ معارف کس نے بیان کئے ہیں اور دنیا کا فیصلہ ہی اصل فیصلہ ہوتا ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ انبیاء بھی بوجہ مبلغ سماوی کی ہونے کے دنیا ہی کو مخاطب کرتے چلے آئے ہیں خلفاء بھی اسی کی اصلاح کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔علماء بھی دنیا کو اپنا ہم خیال بنانے میں کوشاں رہتے ہیں۔میرا کام بھی یہی ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس صداقت کا قائل کروں جس کو میں صداقت سمجھتا ہوں اور مولوی صاحب کا بھی یہی کام ہے۔پس بہترین فیصلہ کرنے والے وہی لوگ ہیں۔ہماری تفسیر میں شائع ہو کر لوگوں میں پھیل جائیں گی لوگ خود فیصلہ کر لیں گے اگر ان کی تفسیر بہتر ہوئی کی