خطبات محمود (جلد 19) — Page 857
خطبات محمود ۸۵۷ سال ۱۹۳۸ ضروری ہوگا کہ وہ اس کا جُرم بیان کرے۔مثلاً بزرگوں کو گالیاں دینا ایک مجرم ہے اب کوئی بھی حج حج جب کسی کے متعلق یہ فیصلہ کرے گا کہ اس نے دوسری قوم کے بزرگوں کو گالیاں دیں تو وہ اُس کی گالیوں میں سے کچھ گالیاں اپنے فیصلہ میں نقل بھی کرے گا۔بغیر اس کے اس کا فیصلہ مکمل کس طرح ہوسکتا ہے۔پس مصری صاحب کی چند گالیوں کے نقل ہو جانے سے اس میں طاقت کونسی پیدا ہوگئی کہ مولوی صاحب کو یہ فکر لاحق ہو گیا کہ اب یہ باتیں ساری دنیا میں پھیل جائیں گی اور کج لوگ نہ معلوم کیا کچھ کہیں حالانکہ اس قسم کے ٹریکٹ اور اشتہارات شائع بھی وہیں سے ہوتے ہیں اور وہ ان کی اشاعت کے لئے روپے پیسے بھی خرچ کرتے ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ انہیں افسوس بھی ہوتا ہے کہ اب یہ لوگوں میں پھیلیں گی اور وہ بُرا اثر قبول کریں گے۔مولوی صاحب کو یا د رکھنا چاہیے کہ برابر ان کی طرف سے ہم پر گندے حملے ہوتے جا رہے ہیں اور شاید وہ سمجھتے ہیں کہ گالیاں ہم کو ہی دی جاتی ہیں اور ہمارے متعلق ہی ایسی باتیں کہی جاتی ہیں کسی اور کے متعلق ایسی باتیں نہیں کہی جاتیں حالانکہ کہنے والوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق بھی ایسی ہی باتیں کہیں اور وہ ان کے مرید تھے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق بھی ایسی ہی باتیں کہیں اور وہ ان کے مرید تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی ایسی ہی باتیں کہیں اور کہنے والے آپ کے مرید کہلاتے تھے۔پس جب اس قدر عظیم الشان ہستیوں پر ان کے مرید کہلانے والوں نے الزام لگائے تو میری یا اور کسی کی کیا ہستی ہے کہ ہم ایسے الزاموں سے بچ جائیں۔خود مولوی محمد علی صاحب اور ان کے خاندان کے متعلق بھی ایسی کئی باتیں بیان کی جاتی ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ میرے پاس جب وہ باتیں پہنچتی ہیں تو میں انہیں دبا دیتا ہوں۔مگر مولوی صاحب کے پاس جب ہمارے متعلق کوئی اس قسم کی بات پہنچتی ہے تو وہ خوشی سے اچھل پڑتے ہیں اور اس کی اشاعت اور ترویج میں حصہ لینے لگ جاتے ہیں لیکن ان کا کی یہ سلسلہ مخالفت کا اور خواہ مخواہ اپنے آپ کو ایسے مقام پر کھڑا کرنا جہاں کھڑے ہونے کا شریعت انہیں حق نہیں دیتی لمبا ہوتا چلا جاتا ہے اور میں انہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر ان کا یہ سلسلہ لمبا چلتا چلا گیا اور ہماری جماعت کے آدمیوں نے بھی ان باتوں کو دہرانا شروع کر دیا جو ان کی جماعت کے ہی بعض افراد جن کی پوزیشن مصری صاحب سے ملتی ہے ان کے متعلق کہتے ہیں تو پھر