خطبات محمود (جلد 19) — Page 716
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء لیکن اگر صورت یہ ہو کہ لبیک کہتے وقت تو چاروں طرف سے لبیک لبیک کی صدائیں بلند ہوں لیکن میدان میں نکلتے وقت معلوم ہو کہ یہ لبیک لبیک کہنے والے دراصل گوہ کھانے والی بھیڑیں اور بکریاں تھیں تو وہ کس طرح یقین کر سکتا ہے کہ اس دفعہ لبیک کہنے والے جھوٹ نہیں بول رہے اور وہ کس طرح اپنی طاقت کا اندازہ کر سکتا ہے۔سوال تھوڑ وں یا بہتوں کا نہیں ہوتا۔بعض اوقات ایک آدمی کام کر جاتا ہے۔آخر حضرت ابو بکر نے کیا تھا یا نہیں جب ان سے کہا گیا کہ مدینہ میں خطرہ ہے اس لئے اسامہ والے لشکر کو روک لیا جائے اس پر آپ نے فرمایا جو ڈرتا ہے وہ یہاں سے چلا جائے میں اکیلا ہی مقابلہ کرونگا کے تو تھوڑے ہونے کی وجہ سے دینی جنگ کبھی نہیں رک سکتی لیکن اس وجہ سے رک جاتی ہے کہ اپنی طاقت کا صحیح اندازہ نہ ہو سکے۔اگر امام لبیک کہنے والوں پر قیاس کر کے کوئی ایسی پالیسی اختیار کرتا ہے جس کے لئے ایک ہزار آدمی درکار ہوں گے لیکن عمل کے وقت صرف نو سو آدمی ساتھ آتے ہیں تو اس کی شکست دنیوی لحاظ سے یقینی ہوگی یا نہیں؟ اور اگر وہ نو سو آدمیوں کا اندازہ کر کے کوئی قدم اٹھاتا ہے اور آتا آٹھ سو ہے تو بھی وہ دنیوی لحاظ سے ضرور شکست کھائے گا اس لئے امام کو واضح طور پر معلوم ہونا چاہئے کہ میں کس قدر قربانی کی امید کر سکتا ہوں اور یہ بات سچائی کے بغیر معلوم نہیں ہوسکتی۔مؤمن کا کام یہ ہونا چاہئے کہ جب وہ ایک دفعہ لبیک کہہ دے تو پھر خواہ کچھ ہوا سے پورا کرے تا امام یقین کے ساتھ یہ فیصلہ کر سکے کہ میرے پاس اتنی طاقت ہے اور اس سے میں نے مقابلہ کرنا ہے ، وہ کم ہوں یا زیادہ اس کا سوال نہیں کیونکہ دینی کام میں کمی کی وجہ سے حرج نہیں ہے ہوتا لیکن دھو کے سے بڑا ہوتا ہے دین کا کوئی کام بغیر سچ کے نہیں چل سکتا۔کئی ضروری کام ایسے ہیں جو محض اس وجہ سے چھوڑنے پڑتے ہیں کہ شاید لبیک کہنے والوں میں سے ایک گروہ گوہ کی کھانے والی بھیڑیں ثابت ہو۔ایسا طبقہ گو تھوڑا ہو ایک کثیر جماعت کی قربانیوں کو جو مخلص اور سچی عاشق اللہ تعالی کی ہوتی ہے خراب کر دیتا ہے یا کم سے کم جماعت کی طاقت کو کمزور کر دیتا کی ہے۔پس یہ ایک چیز ہے جو اپنے نفسوں پر رحم کرتے ہوئے میری مان لو پھر دیکھو تھوڑے ہی عرصہ میں کس طرح تمام نقشہ بدل جاتا ہے۔اپنے اندر سیچ قائم کرو باقی عیوب تمہارے خود بخود مٹ جائیں گے اور خدا تعالیٰ ان کو باقی نہیں رہنے دے گا۔پس میں آپ لوگوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں