خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 715 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 715

خطبات محمود ۷۱۵ سال ۱۹۳۸ء تو بس مر ہی جائیں گے اور جب یہ سال بھی گزر گیا تو چٹھی آجائیگی کہ فلاں مصیبت کی وجہ سے ہم چندہ ادا نہ کر سکے۔اب کے سال ہمیں ضرور اجازت دی جائے ورنہ غم کی وجہ سے ہم مر جائینگے۔اس سال تو ضرور ادا کریں گے اور پھر کچھ ادا نہیں کرینگے۔یہ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ ان سے کس نے کہا تھا کہ ضرور چندہ دوا گر وہ دے نہیں سکتے تھے تو انہیں نام لکھوا نا کیا ضروری تھا کیا پہلے ہی ان کے گناہ کم تھے کہ دین کے معاملہ میں بھی جھوٹ بولنا ضروری سمجھا۔میں نے کئی بار کہا ہے کہ نام لکھوانے کے بعد بھی اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ چندہ نہیں دے سکے کی گا تو اسے چاہئے کہ معاف کرالے اور یہ کبھی نہیں ہو گا کہ کوئی معاف کرانا چاہے اور میں معاف نہ کروں۔جو کہے گا میں نہیں دے سکتا اسے معاف کر دیا جائے گا یا جو دے تو سکتا ہے مگر کہتا ہے کہ مجھ میں ہمت نہیں یا میں دینا نہیں چاہتا یا اگر ہمت تو ہے مگر اپنے بیوی بچوں کو تکالیف میں ڈالنا نہیں چاہتا۔ان سب کو بھی میں معاف کرنے کو تیار ہوں بلکہ بغیر کسی عذر کے بھی معاف کرنے پر آمادہ ہوں تا تم گنہگار نہ بنو اور جھوٹے نہ کہلاؤ۔مگر بعض ہیں کہ وہ نہ تو معاف کراتے ہیں اور نہ ادا کرتے ہیں اور اس طرح خدا تعالیٰ کے معاملہ میں بھی جھوٹ سے کام لیتے ہیں اور جو دین کے معاملہ میں جھوٹ بول لیتا ہے وہ دنیا کے معاملہ میں کہاں کمی کرتا ہوگا۔اچھی طرح کی یا درکھو کہ جب تک ہمارے اندر جھوٹ موجود ہے ہم فتح کا وہ دن جس کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کبھی نہیں دیکھ سکتے اگر اسے دیکھنے کی تڑپ اپنے دل میں رکھتے ہو تو ان گندوں اور خرابیوں کو دور کرو۔اگر تم چاہتے ہو کہ اسلام کی اس وقت جو ہتک ہو رہی ہے یہ دُور ہوا اور خدا تعالیٰ کے نام کو غلبہ حاصل ہو تو اس کی ایک ہی صورت ہے کہ اپنے دلوں سے جھوٹ نکال دو اگر تم ایسا کر لو تو اس بات کا یقین رکھو کہ وہ دن قریب سے قریب تر ہوتا جائیگا۔فتوحات کے لئے قربانی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ کسی قوم کے لیڈر کو یہ معلوم ہو کہ میرے پیچھے جو جماعت ہے وہ کس قدر قربانی کر سکتی ہے اور میرے ہاتھ میں کیا چیز ہے جو میں دشمن پر پھینک سکتا ہوں۔اسے علم ہونا چاہئے کہ وہ کتنے آدمیوں کے ساتھ لڑ سکے گا۔اگر جماعت سچ بولنے والی ہے اور اس کی آواز پر پچاس آدمی لبیک کہتے ہیں تو اسے یقین ہوگا کہ میرے ساتھ پچاس آدمی ضرور ہوں گے اور وہ دلیری کے ساتھ آگے بڑھے گا