خطبات محمود (جلد 19) — Page 695
خطبات محمود ۶۹۵ سال ۱۹۳۸ء سوچنے میں مشغول ہو جائے یا انگریز اگر ان چھوٹی چھوٹی لڑائیوں پر جو سرحد میں لڑی جاتی ہیں کہ اپنے تمام ہتھیاروں کو ظاہر کر دیں تو اس کا نتیجہ یہ نکلے کہ سب دُنیا کو معلوم ہو جائے کہ انگریزوں نے کون کون سی تباہی بر پا کرنے والی چیزیں ایجاد کی ہوئی ہیں اور اس طرح انگریزوں کے دشمن ان کا علاج سوچنے میں مصروف ہو جائیں۔پس تباہی کے سامان تو نکلے ہوتے ہیں مگر اس وقت حکومتیں ان سامانوں کو چھپائے ہوئے ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ وہ ان سامانوں کو اسی دن ظاہر کریں جس دن ایک بڑی جنگ شروع ہو جائے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ایسے ایسے خطرناک سامان تیار ہو چکے ہیں کہ ان کا خیال کر کے ہی انسان کانپ اُٹھتا ہے۔ایسے سینیا میں ایک جگہ اٹلی والوں نے ذراسی اس کی نمائش کی تھی اور مسٹر ڈ گیس MUSTARD GAS) ایسے سینیا کی فوج پر پھینکی تھی۔اس وقت اٹلی کی فوج ایسے سینیا کی فوج سے شکست کھا رہی تھی مگر مسٹر ڈ گیس پھینک کر انہوں نے جنگ کی کایا پلٹ دی۔ہمارا ایک احمدی ڈاکٹر ان دنوں وہیں موجود تھا۔اُس نے وہاں کے چشم دید حالات لکھ کر بھیجے تھے جنہیں پڑھ کر دل رحم سے بھر جاتا تھا۔جس وقت ایسے سینیا کی فوج غلبہ کے خیال میں مست ہو کر آگے کی طرف بڑھتی چلی جا رہی تھی یکدم اٹلی والوں نے مسٹر ڈ گیس پھینکنی شروع کر دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑی ہی دیر میں وہ لوگ پاگلوں کی طرف ادھر اُدھر بھاگنے لگ گئے۔خود ایسے سینیا کا بادشاہ بھی پاگلوں کی طرح اِدھر اُدھر بھاگتا پھرتا تھا اور اس کا تمام جسم چھالے چھالے ہو گیا۔مسٹر ڈ گیس ایک نہایت ہی زہریلی گیس ہوتی ہے۔واللہ اَعْلَمُ۔ابھی اور کتنی زہریلی گیسیں ہیں جو ان لوگوں نے تیار کر رکھی تج ہیں۔کتابوں میں تو اس گیس کے متعلق میں نے پڑھا ہی تھا۔تھوڑے دن ہوئے ایک دوست نے جنہیں اس گیس کا اچھی طرح علم تھا سنا یا کہ یہ گیس اس قسم کی ہوتی ہے کہ اس کے گرتے وقت یہ پتہ ہی نہیں لگتا کہ گیس گر رہی ہے مگر جسم کے اندر معا گھس جاتی ہے، تمام بدن پر چھالے پڑ جاتے ہیں ، کھانسی ہو جاتی ہے ، سینہ میں زخم پڑ جاتے ہیں اور انسان کے اندر آگ بھی لگ جاتی ہے۔ایک ایک فٹ کی موٹی چھت بھی اگر ہو تو یہ گیس اس کے اندر گھس جاتی ہے اور چھت پھاڑ کر اندر آ جاتی ہے اور اس سے بچنے کا سوائے اس کے اور کوئی ذریعہ نہیں کہ انسان اپنے تمام جسم پر ربڑ لپیٹ لے اور چونکہ یہ پتہ نہیں ہوتا کہ اس وقت گیس گر رہی ہے یا نہیں اس لئے اس کا علم