خطبات محمود (جلد 19) — Page 696
خطبات محمود ۶۹۶ سال ۱۹۳۸ء اُسی وقت ہوتا ہے جب انسان اس گیس کے زہریلے اثر کے نتیجہ میں مرنے لگتا ہے۔پھر یہ گیس سیال ہے اُڑتی نہیں۔اگر کسی کمرے میں پڑی ہو تو بعض دفعہ سال سال پڑی رہتی ہے۔انسان یہ سمجھتا ہے کہ کمرہ بالکل صاف ہے اور سمجھتا ہے کہ پچھلے سال دشمن نے اس علاقہ میں یہ گیس پھینکی تھی اب وہ گیس کہاں باقی ہے مگر جونہی وہ اس کمرہ میں داخل ہوتا ہے اس کا شکار ہو جاتا ہے۔اسی طرح گڑھوں اور تالابوں میں یہ گیس ایک مدت دراز تک پڑی رہتی ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ اس علاقہ میں مسٹر ڈگیں نہیں مگر اتفاقاً جب اس گڑھے سے کوئی جانور پانی پینے لگتا ہے یا انسان اس میں گھستا ہے تو گیس اس پر اپنا اثر پیدا کر کے اسے پاگل بنا دیتی اور بالآخر بلاک کر دیتی ہے۔غرض یہ ایک نہایت ہی خطر ناک گیس ہے۔اگر یہی گیس ہوائی جہاز سپرے (Spray) کرتے چلے جائیں تو ملکوں کے مُلک وہ اسی ایک گیس سے تباہ کر سکتے ہیں اور کوئی کچ اس کا علاج نہیں کر سکتا۔گاؤں والے گھروں میں آرام سے بیٹھے ہوں اور ہوائی جہاز ان کے اوپر سے اس گیس کو سپرے کرتے چلے جائیں تو آدمی اور جانور سب کھانس کھانس کر مر جائیں گی گے اور ان کے جسم پر آبلے ہی آبلے اُٹھ آئیں گے۔اسی طرح ایسی شعاعیں ایجاد ہوئی ہیں جن کی مدد سے دور بیٹھے ہی ہوائی جہازوں اور تو پوں کو چلا یا جا سکتا ہے۔ایسی شعاعیں ایجاد ہوئی ہیں جن کو پھینک کر دور بیٹھے ہی انسان ہوائی کی جہازوں کو گرا سکتا ہے۔ایسے ایسے گولے نکلے ہیں جنہیں اگر ہوائی جہازوں کے ذریعہ شہروں اور دیہات پر گرا دیا جائے اور ان کے کنوؤں میں انہیں پھینک دیا جائے تو یکدم ٹائیفائیڈ اور ہیضہ تمام ملک میں پھیل جائے۔غرض ایسی ایسی خطر ناک تباہی کے سامان ایجاد ہو چکے ہیں کہ جس وقت بڑی قوموں میں لڑائی شروع ہوئی اس وقت لاکھوں بلکہ کروڑوں آدمیوں کا ایک ایک دن میں مر جانا کوئی بڑی بات نہیں ہوگی بلکہ انہی سامانوں سے اگر کوئی حکومت چاہے تو سارے ہندوستان کا دو تین دن میں صفایا کر سکتی ہے۔اس قدر خطر ناک سامانوں کی موجودگی کیا تعجب ہے کہ ہماری ان دعاؤں کا ہی نتیجہ ہو جو ہم نے گزشتہ سالوں میں اللہ تعالیٰ کے حضور کیں مگر سوال یہ ہے کہ اس تباہی کے نتیجہ میں اسلام کی شوکت اور عظمت کے جو سامان پیدا ہوں گے ان سے فائدہ اُٹھانے کی ہم کیا کوششیں کر رہے ہیں۔میرے سامنے اس وقت دو تین ہزار