خطبات محمود (جلد 19) — Page 611
خطبات محمود ۶۱۱ سال ۱۹۳۸ء مولوی محمد اسمعیل صاحب پر تو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے اس کا جواب کیوں نہیں دیا مگر خود تسلیم کرتے ہیں کہ پڑھا اور پھر اس کا رڈ نہیں کیا۔اس کا جواب دینا جیسا مولوی محمد اسمعیل صاحب کا فرض تھا ویسا ہی مولوی راجیکی صاحب کا بھی تھا لیکن انہوں نے مولوی ابوالعطاء صاحب کے رڈ کا جواب تو جھٹ دیا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ردکا نہیں دیا۔پس ان پر یہ شدید اعتراض پڑتا ہے کہ انہوں نے مولوی ابوالعطاء صاحب کے لئے تو غیرت دکھائی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے اس کی ضرورت نہیں سمجھی۔یہ دیکھ کر میرے دل میں شبہ پیدا ہوا کہ کہیں ہمارے علماء میں پارٹی بازی کا رنگ تو نہیں پیدا ہو رہا۔خدا نہ کرے کہ ایسا ہولیکن اگر سلسلہ میں کسی قسم کی بھی کوئی پارٹی بازی کی روح پیدا ہوئی تو إِنْشَاءَ اللہ اللہ تعالیٰ کی ہی توفیق سے میں اس کو اپنی زندگی میں کبھی برداشت نہیں کروں گا۔مولوی محمد اسماعیل صاحب اور مولوی راجیکی صاحب صحابہ میں سے اور مولوی ابوالعطاء صاحب تابعین کی میں سے چوٹی کے علماء میں سے ہیں اور انہوں نے سلسلہ کی مشکلات کے وقت میں میری اعانت بھی کی ہے اور اخلاص کے ساتھ سلسلہ کے کام کرتے رہے ہیں جن کے لئے میں جَزَاكُمُ الله کہتا ہوں اور میرے دل سے ان کے لئے دعا نکلتی ہے مگر ان باتوں کے باوجود اگر خدانخواستہ کوئی ایسی صورت ہو تو میں قطعاً اس طرف راغب نہیں ہوں کہ ان کی اس قسم کی غلطیوں کو نظر انداز کر دیا جائے۔صاف بات یہ ہے کہ ایک مضمون میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کے ارشادات کی تردید کی گئی مولوی را جیکی صاحب نے اُس مضمون کو پڑھا انکا فرض تھا کہ اُس کا جواب دیتے مگر انہوں نے نہ دیا۔مجھے ان کے اس قول پر تعجب ہے کہ لوگ ان کے پاس گئے اور کہا کہ میر صاحب کے مضمون کا جواب مولوی محمد اسمعیل صاحب کیوں نہیں دیتے۔ان لوگوں نے مولوی صاحب سے یہ کیوں نہ کہا کہ مولانا آپ اس مضمون کا جواب کیوں نہیں دیتے۔انہیں یہ کیونکر خیال پیدا ہوا کہ وہ مولوی راجیکی صاحب کے پاس جا کر یہ شکائت کریں کہ مولوی محمد اسمعیل صاحب جواب کیوں نہیں دیتے جبکہ ایک عالم ان کے سامنے تھا جسے اس مضمون کا بھی علم تھا پھر بھی اس نے جواب نہیں دیا۔مولوی محمد اسمعیل صاحب تو ممکن ہے مولوی ابوالعطاء صاحب کے مضمون کا بھی جواب نہ دیتے۔