خطبات محمود (جلد 19) — Page 612
خطبات محمود ۶۱۲ سال ۱۹۳۸ اس کا محرک تو یہ امر ہے کہ جب یہ مضمون نکلا ہے تو میں نے مولوی محمد اسمعیل صاحب کو لکھا کی یا زبانی کہا کہ زبانی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اس کے خلاف سُنا ہوا ہے اور کتابوں میں بھی اس کے خلاف پڑھا ہوا ہے لیکن حوالے مجھے یاد نہیں آپ کو مشق ہے آپ قتل یحیی کے بارے میں مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے بھجوا دیں۔چنانچہ انہوں نے حوالے نکال کر مجھے بھیج دیئے۔معلوم ہوتا ہے جب مولوی صاحب نے حوالے نکالے تو ساتھ ہی انہیں یہ خیال بھی آگیا کہ لوگوں کے فائدہ کے لئے ان کو شائع بھی کرا دوں کی تو مولوی محمد اسمعیل صاحب نے مولوی ابوالعطاء صاحب کے مضمون کی اصلاح کے لئے جو مضمون کی لکھا کسی مخالفت کی وجہ سے نہیں لکھا بلکہ میرا حوالے طلب کرنا اس کا موجب ہو گیا اور نہ انہوں نے یہ مضمون اس لئے لکھا کہ ان کا خیال تھا یا جماعت کا خیال تھا کہ سب مضمونوں کا رڈ کرنا انہی کا ہی کا م تھا لیکن مولوی راجیکی صاحب کے مضمون میں اس قسم کا مخفی اشارہ پایا جاتا ہے کہ مولوی محمد اسمعیل صاحب کو چونکہ مولوی ابوالعطاء صاحب سے کینہ تھا اس لئے ان کا رڈ کیا اور میر صاحب سے چونکہ ان کی دوستی تھی اس لئے ان کی تردید نہ کی اور اگر مولوی صاحب سے غلطی کی سے ایسا نہیں لکھا گیا تو یہ صریح ظلم ہے۔میرا تو خیال ہے کہ میں اگر ان کو حوالے نکالنے کو نہ کہتا تو ممکن ہے اس مضمون کا بھی ان کو پتہ نہ لگتا اور وہ جواب نہ دیتے یا شاید سمجھ لیتے کہ کوئی اور اس کا جواب دیدے گا۔دراصل نیکی کے مختلف مواقع ہوتے ہیں جو مختلف لوگوں کو مل جاتے ہیں۔ہر نیکی حضرت ابوبکر نے ہی نہیں کی بلکہ بعض حضرت عمرؓ نے بھی کیں، پھر بعض کا موقع حضرت عمرؓ کو نہیں ملا اور وہ حضرت عثمان نے کیں ، پھر بعض کا حضرت عثمان کو نہیں ملا اور حضرت علی کو موقع ملا، بعض حضرت طلحہ نے کیں ، بعض حضرت زبیر نے کیں تو نیکی کے مواقع ہوتے ہیں اور اس موقع پر اللہ تعالی کی طرف سے کسی کو تحریک ہو جاتی ہے۔اسی طرح کوئی مضمون کسی کو کی سوجھ جاتا ہے اور کسی کی تحریک کسی اور کو ہو جاتی ہے یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ہر نیکی کی تحریک کسی ایک ہی انسان کو ہو اور ہر مضمون لکھنے کا خیال ایک ہی شخص کو آئے یہ انسانی فطرت ہے کہ کبھی مولوی راجیکی صاحب کا خط آیا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ انہیں مولوی صاحب سے کوئی رنج نہیں۔انہوں نے پالا رادہ ایسی کوئی بات نہیں لکھی اور ان کے عذر کو میں تسلیم کرتا ہوں۔