خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 610 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 610

خطبات محمود ۶۱۰ سال ۱۹۳۸ء کیا یہ بھی کوئی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد ہے؟ مولوی راجیکی صاحب کے مضمون میں اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ میر صاحب کے مضمون کا جواب کسی اور وجہ سے نہیں دیا گیا حالانکہ یہ بات تقویٰ اللہ اور عقل دونوں کے خلاف ہے۔جو اعتراض مولوی را جیکی صاحب نے اپنے مضمون میں مولوی محمد اسمعیل صاحب پر کیا ہے وہ خود ان پر بھی پڑتا ہے۔انہوں نے مولوی محمد اسمعیل صاحب پر اعتراض کیا ہے کہ کل انہوں نے حضرت مسیح موعود کی علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کی تردید کرنے والے ایک مضمون کا جواب دیا ہے، دوسرے کا کیوں نہیں دیا لیکن یہی اعتراض مولوی راجیکی صاحب پر پڑتا ہے بلکہ زیادہ سخت صورت میں پڑتا ہے کہ انہوں نے اس مضمون کا جواب تو دیا جو مولوی ابو اعطاء صاحب کے مضمون کی تردید میں لکھا گیا تھا مگر اُس کا کیوں نہ دیا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کو رڈ کرنے والا تھا۔جب میر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کی تردید کی تو وہ منتظر رہے کہ کوئی اور ان کا رڈ کرے لیکن جب مولوی ابوالعطاء کی تردید ہوئی کی تو انہوں نے فوراً اس کے رد میں مضمون لکھنا ضروری سمجھا۔پھر میں نے تو میر صاحب کا یہ مضمون نہیں پڑھا اگر پڑھتا تو یقیناً اس کا رڈ کرا دیتا اور اس طرح یہ بھی ممکن ہے کہ مولوی محمد اسمعیل صاحب نے بھی وہ نہ پڑھا ہو مگر مولوی راجیکی صاحب خود تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے دونوں مضمون پڑھے ہیں لیکن چونکہ مولوی محمد اسمعیل صاحب نے کہیں بیان نہیں کیا کہ انہوں نے ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کا مضمون پڑھا ہے اس لئے یہ خیال ہو سکتا ہے کہ شاید مولوی محمد اسمعیل صاحب نے میر صاحب کا مضمون نہ پڑھا ہو۔یہ کوئی ضروری تو نہیں کہ آدمی الفضل میں جو کچھ چھپا ہو سارے کا سارا پڑھے۔میں نے میر صاحب کے کئی مضمون پڑھے ہیں مگر یہ میری نظر سے نہیں گزرا۔اسی طرح مولوی غلام رسول راجیکی صاحب کے مضامین چھپتے رہتے ہیں ان میں سے بعض میں نے پڑھے ہیں بعض نہیں پڑھے۔جس دن زیادہ فرصت ہوگی سارا اخبار پڑھ لیتا ہوں ، جس دن کم ہو اُس دن ضروری ضروری حصے پڑھ لیتا ہوں اور باقی عنوان دیکھ لیتا ہوں۔اسی طرح دوسرے لوگ بھی کرتے ہوں گے، پس یہ کہاں سے ثابت ہو گیا کہ میر صاحب کا مضمون جو مولوی محمد اسمعیل صاحب نے بھی ضرور پڑھا ہوگا۔لیکن وہ