خطبات محمود (جلد 19) — Page 405
خطبات محمود ۴۰۵ سال ۱۹۳۸ء نہیں دلوا سکتے تھے۔غرض ایک طرف مرکز سلسلہ نے اپنی مدد واپس لے لی اور دوسری طرف انہیں نصیحت کر دی گئی کہ وہ سچائی کو نہ چھوڑیں اور اگر یہ قصور ان سے سرزد ہوا ہے تو اس کا اقرار کر لیں۔بلکہ مزید غلط فہمی دور کرنے کے لئے چونکہ مرزا عبد الحق صاحب اکثر سلسلہ کے مقدمات لڑتے ہیں ان کو بھی روک دیا گیا۔صرف یہ ہدایت دے دی گئی کہ وہ حالات مقدمہ کی نگرانی رکھیں اور یہ دیکھتے رہیں کہ مقدمات میں کوئی ایسی بات تو نہیں کی جاتی جو سلسلہ کی بدنامی کا موجب ہوتا کہ دشمنوں کی شرارتوں کا علم رہے اس سے زیادہ اس مقدمہ میں جماعت نے کوئی حصہ نہیں لیا بلکہ سلسلہ کی کوششیں محد و در ہیں۔اسی عرصہ میں جیسا کہ میں بتا چکا ہوں حکومت کی طرف سے شکایت ہوئی کہ احمدیت کے مخالفین یہ کہتے ہیں کہ جماعت احمد یہ اسے قومی ہیرو بنادے گی اور یہ کہنے لگ جائے گی کہ وہ بڑا نیک ، بڑا قربانی والا اور سلسلہ کا بڑا خدمت گزار تھا اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دوسرے نوجوانوں کے دلوں میں بھی یہی خیال پیدا ہو گا کہ آؤ ہم بھی کسی کو قتل کریں اور شہادت کا درجہ پائیں۔چنانچہ خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب سے ڈپٹی کمشنر صاحب نے خواہش کی کہ آپ اس مقدمہ میں قومی طور پر حصہ نہ لیں۔چونکہ ہمارا اپنا بھی یہی فیصلہ تھا اس لئے خان صاحب نے ان سے اقرار کیا کہ ہماری جماعت بحیثیت جماعت اس میں حصہ نہیں لے گی اور کہا کہ ہم آپ کی مشکلات کو سمجھتے ہیں۔ہم پر حقیقت چونکہ کھل چکی ہے اس لئے ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ جماعت قومی طور پر میاں عزیز احمد صاحب کی مدد نہیں کرے گی۔حکومت کا یہ مطالبہ جیسا کہ ہمیں بعد میں معلوم ہوا نا جائز تھا اور ہمارا اس سے یہ اقرار کر لینا بھی کہ ہم بحیثیت جماعت ملزم کی مدد نہیں کریں گے ، جیسا کہ میں بعد میں ذکر کروں گا نقصان دہ تھا۔مگر بہر حال ہم نے اقرار کیا اور بعد میں اس سے ہمیں نقصان پہنچا لیکن سلسلہ نے اسے قبول کر لیا۔یہ مطالبہ نقصان دہ اس لئے تھا کہ ایسے مقدمات میں قتل کے واقعات کو بالعموم سازش کا رنگ دے دیا جاتا ہے اور فریق مخالف صرف یہ ثابت نہیں کرتا کہ فلاں نے اسے مارا ہے بلکہ وہ کی یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس کے ذریعہ سے اسے مروایا گیا ہے اور یہ طریق ہمارے ملک میں اتنی کثرت سے رائج ہے کہ انگریز مصنف جو قانون کے ماہر ہیں انہوں نے متعدد مقامات پر