خطبات محمود (جلد 19) — Page 406
خطبات محمود ۴۰۶ سال ۱۹۳۸ء اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ ہندوستان میں قتل صرف منفر د فعل کی حد تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کی قتلوں کو کسی سازش کا نتیجہ قرار دے دیا جاتا ہے۔چنانچہ حال ہی میں ہائی کورٹ میں ایک مقدمے کا فیصلہ ہوا ہے جس میں یہ سوال در پیش تھا کہ مرنے والے نے بہت سے آدمیوں کا نام لے دیا تھا اور کہا تھا کہ مجھے قتل کرنے میں یہ یہ شریک ہیں۔پرانے زمانے میں یہ دستور تھا کہ وہ مرنے والے کے بیان کو بڑی عظمت کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے اور مقتول مرتے ہوئے جب بھی کسی کا نام لے دیتا اسے ضرور گرفتار کر لیا کرتے تھے اور دلیل یہ دیتے تھے کہ مرنے والا جھوٹ نہیں بول سکتا۔وہ خدا تعالیٰ کے سامنے اپنے اعمال کی جواب دہی کے لئے حاضر ہونے والا ہوتا ہے۔وہ مرتے وقت بھلا جھوٹ کس طرح بول سکتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا کہ مقتول مرتے وقت جو بیان بھی دے دیتا۔اُسے سچا سمجھ لیا جاتا اور اس کے مطابق ملزموں کو سزا دے دی جاتی۔لیکن آہستہ آہستہ معلوم ہوا کہ ایسے موقع پر بھی بڑے بڑے جھوٹ بولے جاتے ہیں اور اب عدالتوں کا رُجحان اس طرف ہو گیا ہے کہ ان گواہیوں کو تسلیم نہیں کرنا چاہئے۔چنانچہ جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ہے تین چار دن ہوئے ہائی کورٹ کا ایک فیصلہ شائع ہوا ہے جس میں بڑے بڑے ججوں اور وکلاء کی کتابوں کے حوالہ جات سے یہ بات لکھی گئی ہے کہ ہندوستان میں کثرت سے یہ رواج ہے کہ مرنے والا بہت سے آدمیوں کے نام لے دیتا ہے کیونکہ اس کے کی رشتہ دار اُسے کہتے ہیں کہ اب تو تو مر چلا ہے کوئی بیان ایسا دے جا جس کے نتیجہ میں ہمارے فلاں فلاں دشمن پھنس جائیں چنانچہ وہ ان کے حسب منشاء بیان دے دیتا ہے۔در حقیقت ہمارے ملک کے لوگوں کے دلوں میں یہ ایک غلط خیال بیٹھ چکا ہے کہ مرنے والا جھوٹ نہیں بول سکتا۔مرتے وقت وہی جھوٹ نہیں بولا کرتا جسے قیامت پر یقین ہوتا ہے مگر جو قیامت اور بعث بعد الموت پر یقین ہی نہ رکھتا ہو وہ اس موقع پر جھوٹ بولنے سے نہیں رہ سکتا بلکہ زیادہ جھوٹ بولتا ہے اور عقلاً بھی یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا سمجھنا مشکل ہو۔اگر اسے خدا کی ہستی پر یقین ہوتا اگر وہ سمجھتا کہ مرنے کے بعد بھی ایک زندگی ہے تو اس کی ساری عمر بدکاری میں کیوں گزرتی۔اس کا تمام عمر بدیاں کرتے چلے جانا بتا تا ہے کہ وہ عالم آخرت پر یقین ہی نہیں رکھتا تھا اور جب وہ دوسرے عالم پر یقین ہی نہیں رکھتا تھا تو اس کا موت کے وقت