خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 404

خطبات محمود ۴۰۴ سال ۱۹۳۸ء بات یہ ہے کہ جس وقت ڈپٹی کمشنر صاحب کہہ رہے تھے کہ جماعت اب اسے قومی ہیرو بنادے گی۔عین اُسی وقت کمرہ عدالت میں میاں عزیز احمد صاحب یہ بیان دے رہے تھے کہ میں نے خود میاں فخر الدین صاحب کے پوسٹر کی وجہ سے اشتعال میں آکر ان پر حملہ کیا ہے۔جب اس قسم کی حرکت قاضی محمد علی صاحب سے ہوئی تھی اُس وقت میں نے بھی انہیں یہی نصیحت کی تھی کہ اگر آپ سے پہلے کوئی قصور ہوا ہے تو اس کا اقرار کر لیں۔اس کے مقابلہ میں ذرا یہ معترض بھی بتائیں کہ ان کے آدمی کس طرح اقرار کیا کرتے ہیں۔ان کی طرف سے اکثر مقدمات میں کی واقعات کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے اور پھر جھوٹے گواہ عدالت میں پیش کئے جاتے ہیں مگر احمدی کیسز میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی جس میں واقعات کو چھپانے اور اصلیت پر پردہ کی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہو یہ واقعہ بھی ایک ایسے بازار میں ہوتا ہے جس میں کثرت سے احمدیوں کی دکانیں ہیں مگر ایک احمدی بھی جھوٹی گواہی نہیں دیتا۔کیا یہ سلسلہ احمدیہ کی سچائی کا ثبوت نہیں۔اگر دوسرے لوگ مقدمات میں جھوٹ بول سکتے ہیں تو کیا احمدی اگر ان میں ایمان نہ کی ہوتا جھوٹ نہیں بول سکتے تھے۔وہ بھی بول سکتے تھے مگر اسی ایمان نے انہیں جھوٹ بولنے سے باز رکھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے دلوں میں پیدا کر دیا ہے۔پس یہ واقعہ بذات خود جماعت احمدیہ کی راستبازی کا ایک ثبوت ہے۔اور اس واقعہ نے اور اسی قسم کے بعض اور واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر احمدی جھوٹ بولنے والے ہوتے تو مقدمات ضرور مشتبہ ہو جاتے۔مگر آج تک جتنے مقدمات میں ہماری جماعت کے افراد کو بظاہر نقصان پہنچا ہے محض جرم کا اقرار کرنے اور سچ بولنے کی وجہ سے پہنچا ہے۔مجھے خوب یاد ہے کہ قاضی محمد علی صاحب پر جن دنوں مقدمہ چل رہا تھا ، ایک افسر سے ایک احمدی نے اس کا ذکر کیا اور اس نے دریافت کیا کہ کیا ان حالات میں وہ پھانسی کا مستحق ہے۔اس افسر نے جواب دیا کہ اگر وہ انکار کرتے تو ان حالات میں پھانسی کیا وہ تو شاید کسی سزا کے بھی مستحق نہ ہوتے۔مگر جو شخص خود اقرار کر لے اور کہے کہ میں نے قتل کیا ہے، اس کا کیا علاج ہوسکتا ہے۔تو احمد یہ جماعت کی سچائی ہی ہے جس نے دشمنوں کے لئے ایک فتح کی صورت پیدا کی اور وہ ہماری جماعت کے بعض افراد کو سزا دلوانے میں کامیاب ہو گئے ورنہ اور کسی صورت میں وہ سزا