خطبات محمود (جلد 19) — Page 267
خطبات محمود ۲۶۷ سال ۱۹۳۸ء حفاظت کر سکتے ہیں اور ایسی بیسیوں تدابیر ہیں کہ قانون کی پوری پوری پابندی کرتے ہوئے بھی ہم ظالم حاکموں کے ظلم کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔پس میں جماعت کے نو جوانوں اور بوڑھوں اور مردوں اور عورتوں سے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ سلسلہ کی عزت اور احترام کیلئے انہیں ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ان کا حق ہے کہ مجھ سے مطالبہ کریں ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حق ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہے، خدا تعالیٰ کا حق ہے کہ مجھ سے مطالبہ کرے بلکہ میں کہوں گا کہ انسانیت کا بھی حق ہے کہ مجھ سے مطالبہ کرے کہ تم کو تو حکومت کے قوانین کی پابندی کی اور اس کی فرمانبرداری کا حکم تھا پھر تم نے کیوں اس پر عمل نہ کیا۔جماعت کی عزت کی حفاظت کی کیلئے میں جو کچھ کروں وہ جائز ہے اور اس کیلئے جس قسم کی قربانی کا میں مطالبہ کروں سلسلہ کے ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ اسے پورا کرے اور جو اس سے دریغ کرے وہ ہر گز احمدی نہیں رہ سکتا۔میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ تم میں سے بہت ایسے ہیں کہ جب انہیں کوئی شخص گالی دے تو وہ بھی جواب میں اسے گالی دیتے ہیں گویا ان کے نزدیک ان کے نفس کی عزت اتنی ہے کہ وہ می معمولی ہتک کو بھی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب سلسلہ کی قربانی کا سوال پیش ہو تو وہ لوگ گھر میں بیٹھے رہتے ہیں۔وہ اپنے نفس کی خاطر تو ہر قسم کی جانی ، مالی اور عزت و عظمت کی قربانی کیلئے تیار ہو جاتے ہیں لیکن سلسلہ کی عظمت کو قائم کرنے کا سوال اگر پیدا ہو تو کیوں اُن کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہونے لگتا ہے کہ یہ بڑی قربانی ہے۔یاد رکھو خلافت قائم ہی اس لئے ہوتی ہے کہ جماعت سے قربانیاں کرائی جائیں ورنہ نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ تو ہر شخص اپنی اپنی جگہ پر بغیر خلافت کے بھی ادا کر سکتا ہے۔خلافت کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ جب سلسلہ کیلئے مجموعی قربانی کا وقت آئے تو وہ کرائی جاسکے اور دنیا کے ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک یہ آواز کی بلند ہو جائے اور ہر طرف سے یہ جواب آئے کہ ہم تیار ہیں۔اس کیلئے خواہ وطن چھوڑ نے پڑیں اور خواہ جائیدادوں سے ہاتھ دھونا پڑے، مال قربان کرنا پڑے یا جان، کسی سے دریغ نہ کیا جائے۔میں نے حکام کو ہمیشہ توجہ دلائی ہے کہ یہ یک طرفہ تعاون درست نہیں۔اگر وہ ہم۔تعاون کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ہمارے احساسات کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔بے شک ہم تھوڑے