خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 266

خطبات محمود ۲۶۶ سال ۱۹۳۸ء اور اس کے مقابلہ میں ہمارے ساتھ صحیح تعاون کیلئے تیار ہوتی مجلس شوری کے ایام میں بعض ایسے واقعات ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ گورنمنٹ نے ہماری اس خاموشی اور برداشت کو بزدلی پر محمول کیا ہے حالانکہ مؤمن کبھی بر دل نہیں ہوتا۔معمولی افسروں کی تو بات ہی جانے دو مجھے گورنر ان کونسل نے ایک ایسی چٹھی لکھی تھی جو سراسر نا جائز تھی اور میں نے صاف طور پر کہ دیا تھا کہ یہ بالکل ناجائز ہے۔میں اس کی اطاعت تو کروں گا مگر حکومت کو اس کا بدلہ ضرور بھگتنا پڑے گا۔پس نہ تو میں بُزدل ہوں اور نہ جماعت کو بُز دل بنانا چاہتا ہوں۔بلکہ صاف الفاظ میں کئی بار کہہ چکا ہوں کہ بزدل کا یہاں کام نہیں وہ ہمیں چھوڑ کر چلا جائے۔ہمارے ساتھ وہی رہ سکتا ہے جو ہر وقت جان و مال کی قربانی کیلئے تیار ہو۔یہ دین کا معاملہ ہے اور اس میں تمہیں اپنی جان کی قیمت اتنی بھی نہیں سمجھنی چاہئے جتنی ایک امیر آدمی کے نزدیک اُس کے پھٹے ہوئے کوٹ کی ہو سکتی ہے۔اگر کوٹ لینے والا کوئی غریب اسے نہیں ملتا تو بھی وہ تی اسے گھر سے نکال کر باہر پھینک دیتا ہے تا اس کے گھر میں تو گند نہ رہے۔پس مؤمن کو اپنی جان کی قیمت اتنی بھی نہیں سمجھنی چاہئے اور اگر خدا تعالیٰ کے دین کیلئے اسے قربان کرنا پڑے تو ذرہ بھر پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔اب بھی میرا ارادہ نہیں کہ کوئی ایسا طریق اختیار کیا جائے جو حکومت کیلئے مشکلات پیدا کرنے کا موجب ہولیکن میں اس کیلئے بھی تیار نہیں ہوں کہ حکومت کو۔ایسے طریق اختیار کرنے دوں جن سے جماعت کی ہتک اور ذلت ہوتی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ حکومت کے بعض افسر متواتر ہمارے خلاف ایسی کارروائیاں کر رہے ہیں جو سراسر نا جائز ہیں۔ہم ان کے بالا افسروں کو اس طرف توجہ دلاتے ہیں تو وہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے ہیں اور کوئی کارروائی نہیں کرتے۔پولیس کے بعض آدمی ہمارے خلاف مسلسل اور متواتر جھوٹی رپورٹیں کرتے رہتے ہیں اور انہیں کوئی سزا نہیں دی جاتی اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہماری جماعت نے باعزت زندگی بسر کرنی ہے اور احمدیت کے جھنڈے کو بے داغ رکھنا ہے تو وہ اس ذلت کو برداشت نہیں کرے گی۔بے شک میں نے اعلان کیا ہوا ہے اور ہماری تعلیم یہی ہے کہ ہم حکومت کے وفادار ر ہیں گے اور قانون شکنی نہیں کریں گے لیکن ایسے ذرائع ہیں کہ جن سے قانون کے اندر رہتے ہوئے بھی ہم اپنے حقوق کی