خطبات محمود (جلد 19) — Page 264
خطبات محمود ۲۶۴ سال ۱۹۳۸ء نہ ہو اور اس قسم کی تنقید کرنے والوں کو میں سختی سے روکتا ہوں۔مثلاً فیروز پور کے دو بھائی کی پہلے بہت تنقید کیا کرتے تھے مگر میں نے اُن کو سختی سے روکا اور اب میں نے دیکھا ہے کہ انہوں نے بہت اصلاح کرلی ہے اور بھی بعض لوگ سخت تنقید کیا کرتے تھے مگر میرے سختی سے روکنے کا یہ اثر ہے کہ اب اعتراضات بہت سلجھے ہوئے ہوتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ اس سال کی شوری میں ایک مثال ایسی ہے جو نا مناسب تنقید کہلا سکتی ہے۔مگر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے عام طور پر دوستوں نے اُسے جنسی میں ٹال دیا اور تر دید کے قابل نہیں سمجھا۔یہ صاحب ایک لمبے عرصہ تک قادیان نہیں آئے جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ریل میں نہیں بیٹھ سکتے تھے۔شاید ایک دفعہ کوئی ٹکر ہوگئی تھی یا کیا ہوا کہ انہوں نے ریل میں سوار ہونا ترک کر دیا اور اس وجہ سے کبھی قادیان بھی نہ آئے۔اب دو تین سال سے وہ آنے لگے ہیں اور اب ان کے بڑھاپے کی عمر ہے پہلے چونکہ وہ آتے نہیں رہے اس لئے شوری کی روایات سے انہیں پوری طرح واقفیت نہیں اس کی لئے وہ کسی وقت کوئی ایسی بات کر دیتے ہیں جو شوری کے قواعد کے خلاف ہوتی ہے۔اس امر کو کی سب دوست جانتے ہیں اس دفعہ نظارت کے متعلق بعض نامناسب الفاظ انہوں نے ہی کہے تھے اور میرا یہ اثر ہے کہ جماعت پر ان الفاظ کا کوئی اثر نہ تھا۔۲۔جماعت احمدیہ اور بعض حکام کے تعلقات اس کے بعد میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ گزشتہ سال جو واقعہ ہمارے ایک نوجوان کی نادانی سے سلسلہ کی تعلیمات کے صریح خلاف اور میرے متعد د خطبات اور تقریروں سے ناواقف ہونے کی وجہ سے ہو گیا تھا یعنی اس نے ایک شخص پر جو جماعت سے خارج ہو چکا تھا حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں وہ مر گیا۔اس کے ازالہ کیلئے میں نے یہ ضروری سمجھا کہ اس کا کفارہ ادا کیا جائے اور وہ یہ کہ اب اگر ہم پر سختی بھی ہو تو ہم اسے ایک عرصہ تک خاموشی کے ساتھ برداشت کرتے جائیں۔اصل بات یہ ہے کہ اُس زمانہ میں اُس ضلع کے جو ڈ پٹی کمشنر تھے اُن کو ہماری وجہ سے بہت شرمندگی اُٹھانی پڑی۔وہ گورنمنٹ کو ہمیشہ یہ یقین دلاتے تھے کہ اس جماعت کی طرف سے کوئی اندیشہ قانون کو ہاتھ میں لینے کا نہیں ہو سکتا اور کہ میں اس بات کاج