خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 265

خطبات محمود ۲۶۵ سال ۱۹۳۸ء ذمہ دار ہوں۔اور جب ہمارے ایک نوجوان نے اس طرح غلطی کی تو اُن کو جو دکھ ہو سکتا تھا وہ ظاہر ہے اور اس لئے میں نے سمجھا کہ ہمارا فرض ہے کہ ہم قربانی کر کے اُن کے اس دکھ کو دور کر دیں۔چنانچہ بعض دفعہ جماعت کے حقوق تلف کئے جاتے رہے اور میں ہمیشہ جماعت سے یہی کہتا رہا کہ اپنا حق جانے دو اس لئے کہ ہم میں سے ایک شخص نے ایک ایسی غلطی کی ہے جس کا کفارہ ضروری ہے۔غلطی خواہ جماعت کا ایک فرد ہی کرے اس میں شک نہیں کہ ہم اس کے کی بداثر سے باہر نہیں رہ سکتے۔یہ صحیح ہے کہ شرعی اور اخلاقی طور پر ہم اس کے ذمہ دار نہیں لیکن اس کا بُرا اثر ہم پر ضرور پڑے گا۔کسی کا بیٹا بدمعاش ہو تو خدا تعالیٰ کے حضور یا قانون کے نزدیک اس پر ذمہ داری نہیں لیکن بدنامی سے حصہ اسے ضرور ملے گا گو اس کے تعلق سے وہ کتنا ہی بری الذمہ کیوں نہ ہو۔میں تسلیم کرتا ہوں کہ اس حرکت کے خلاف ہم نے انتہائی نفرت کا اظہار کیا کی اور کرتے ہیں مگر باوجود اس کے بدنامی سے نہیں بچ سکتے اور اگر خدانخواستہ ہم میں سے پھر کوئی ایسی حرکت کرے گا تو اس کی بدنامی سے بھی سلسلہ کی بدنامی ضرور ہو گی۔چاہے ہم لوگوں کو کتنا ہی یقین کیوں نہ دلائیں کہ ہم نے یہ کہا تھا اور وہ کہا تھا یہ گویا ایک جماعتی ورثہ ہوتا ہے جو ضرور مل کر رہتا ہے۔ایک خاندان اگر نیک نام ہو تو اس کے کسی بد معاش فرد پر بھی لوگ اعتبار کر لیتے ہیں لیکن اگر کوئی خاندان بدمعاش ہو تو اُس کے نیک فرد کا بھی کوئی اعتبار نہیں کرتا۔جب بدنامی آتی ہے تو جماعت کو بھی اس سے حصہ ملتا ہے جس طرح نیک نامی سے ملتا ہے۔اس خیال کے ماتحت میں نے یہ رویہ اختیار کیا اور جماعت کو یہی مشورہ دیا کہ گورنمنٹ کی طرف سے اِن دنوں ہمارے ساتھ جو نا انصافیاں کی جائیں ان کو برداشت کرو اور اس طرح وہ موقع آنے دو جب ہماری مظلومیت بالکل واضح ہو جائے۔اگر حکومت میرے اس طریق کی قدر و قیمت کو مجھتی تو بہت زیادہ امن قائم ہو جاتا کیونکہ میں نے اپنا رستہ چھوڑ کر اُس کی بات کو ماننے پر آمادگی کا اظہار کیا تھا اور یہ اس لئے کیا تھا کہ ہمیں اس غلطی کا خمیازہ بھگتنا چاہئے جو ہمارے ایک فرد سے ہوئی ہے۔کانگرسیوں کی غلطی کی وجہ سے گاندھی جی چودہ روز کا برت رکھتے ہیں مگر ہم نے نو ماہ کی سے زیادہ عرصہ تک یہ برت رکھا ہے اور اتنا لمبا عرصہ تک ان تمام الزامات کو سنا اور برداشت کیا ہے جو ہم پر لگائے جاتے تھے لیکن بجائے اس کے کہ گورنمنٹ اس کی قدرو قیمت کو سمجھتی