خطبات محمود (جلد 19) — Page 263
خطبات محمود ۲۶۳ سال ۱۹۳۸ء ذمہ داری ختم سمجھی جائے گی لیکن اگر ان صورتوں میں سے کوئی بھی نہ ہو تو ان کا فرض ہے کہ جس طرح بھی ہو سکے عمل کریں۔میں نے وظائف کے متعلق فیصلہ کی جو مثال دی ہے اس میں کوئی کی ایسا کام نہیں تھا جو کیا نہ جاسکتا ہو۔۱۹۳۵ء میں ناظر بیت المال کا فرض تھا کہ صورت حالات مجلس شوری کے پیش کر دیتے اور جتنی رقم جمع ہوتی اُس کے متعلق کہہ دیتے کہ اتنی رقم ہے صرف اسی میں سے وظائف دیئے جائیں یا خزانہ میں سے مدد لی جائے ؟ یہ اتنا معمولی کام تھا کہ جس میں کسی محنت کی ضرورت نہ تھی۔نہ کلرکوں کی اور نہ نائب ناظر کی امداد در کارتھی۔میں نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ وظائف کے معاملہ میں شوریٰ کا رحجان بند کرنے کی طرف نہیں ہوتا۔جماعت کے دوست چونکہ عام طور پر غریب ہیں اس لئے کسی کا دوست ، کسی کا رشتہ دار ، کسی کا گاؤں یا شہر اور کسی کا ضلع فائدہ اُٹھا رہا ہوتا ہے اس لئے وہ ضرور یہی مشورہ دیتے کہ وظائف بند نہ کئے جائیں اور مزید روپیہ ان کیلئے منظور کر دیا جاتا اور پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر جماعت کو علم ہو جاتا ہے کہ وصولی کم ہوئی ہے تو وہ ہوشیار ہو جاتی اور نادہندوں کے خلاف کوئی مؤثر کا رروائی کرنے کی کا مشورہ دیتی۔بہر حال جو بھی ہوتا قانون کے مطابق ہوتا اور اس کیلئے کسی محنت کی ضرورت نہ تھی۔صرف ایک دو منٹ میں معاملہ پیش ہی کر دینا تھا کہ اتنا روپیہ وصول ہوا ہے اور اتنے کی وظائف ہیں۔اسی رقم سے وظائف دیئے جائیں یا مزید روپیہ خزانہ سے لیا جائے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے چونکہ ممبروں کا میلان وظائف جاری رکھنے کی طرف ہی ہوتا ہے اگر وہ اس کی طرح کرتے تو پھر بھی ہونا وہی تھا جو اب ہوا ہے مگر وہ جائز ہوتا اور یہ نا جائز ہے اور اس طرح مسلسل قانون ٹوٹتا رہا ہے۔وظائف کو اُڑانے کا سوال جب بھی پیدا ہوا ہے ننانوے فیصدی ممبروں نے یہی مشورہ دیا ہے کہ ہم مزید بوجھ اُٹھا لیں گے مگر ان کو بند نہ کیا جائے۔تو اس صورت میں بھی ہونا تو وہی تھا جو اب ہوا۔مگر اعتراض کی صورت نہ رہتی اور شوری کے فیصلہ پر عمل ہو جاتا۔اور جب شوری انجمن کی حاکم ہے تو ناظروں کا فرض ہے کہ اس کی اطاعت کریں اور اس کے فیصلوں پر عمل کریں۔چوتھی بات یہ ہے کہ اس قسم کی تنقید سے جماعت کے کام میں روک پیدا ہوتی ہے مگر میں اس سے بھی متفق نہیں ہوں کیونکہ میں ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتا ہوں کہ تنقید نا مناسب رنگ میں