خطبات محمود (جلد 19) — Page 13
خطبات محمود ۱۳ سال ۱۹۳۸ء مجلس کا سیکرٹری سمجھ لے۔میں نے پچھلے سالوں میں بتایا تھا کہ قربانی وہی ہے جو انتہاء تک پہنچے۔پس یہ مت خیال کرو کہ فلاں شخص جس نے پہلے اتنا چندہ دیا تھا اُس نے چونکہ اس دفعہ چندہ نہیں لکھا یا اس لئے ہم بھی اس کی تقلید کریں۔بہت لوگ بظاہر بڑے نیک ہوتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہ گر جانے والے ہوتے ہیں اور بہت لوگ بظاہر کمزور اور بے حقیقت نظر آتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی نظر میں وہ بڑے طاقتور ہوتے ہیں۔پس ایسا نہ ہو کہ تم کہو جب فلاں شخص نے اس کام کو نہیں کیا جو عہدہ دار ہے تو ہم کیوں کریں۔شاید خدا اب اسے گرانے کا ارادہ رکھتا ہو اور تمہارے متعلق وہ یہ ارادہ رکھتا ہو کہ تمہیں اُٹھائے اور بلند کرے۔پھر یہ امراچھی طرح یا درکھو کہ قربانی وہی ہے جو موت تک جاتی ہے۔پس جو آخر تک ثابت قدم رہتا ہے وہی ثواب بھی پاتا ہے۔اگر کوئی کہے کہ پھر نئے دور کوسات سال تک محدود کیوں رکھا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قربانیاں کئی رنگ میں کرنی پڑتی ہیں۔موجودہ سکیم کو میں نے سات سال کیلئے مقرر کیا ہے۔جس کی وجہ یہ ہے کہ بعض پیشگوئیوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۴۲ ء یا ۱۹۴۴ ء تک کا زمانہ ایسا ہے جس تک سلسلہ احمدیہ کی بعض موجودہ مشکلات جاری رہیں گی۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایسے حالات بھی پیدا کر دے گا کہ بعض قسم کے ابتلاء دور ہوجائیں گے اور اُس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے نشانات ظاہر ہو جائیں گے کہ جن کے نتیجہ میں بعض مقامات کی تبلیغی روکیں دُور ہو جائیں گی اور سلسلہ احمد یہ نہایت تیزی سے ترقی کرنے لگ جائے گا۔پس میں نے چاہا کہ اس پیشگوئی کی جو آخری حد ہے یعنی ۱۹۴۴ ء اُس وقت تک تحریک جدید کو لئے جاؤں اور جماعت سے قربانیوں کا مطالبہ کرتا چلا جاؤں تا آئندہ آنے والی مشکلات میں اسے ثبات حاصل ہو۔پس آج میں پھر خصوصیت کے ساتھ تمام جماعتوں کو خواہ وہ بڑی جماعتیں ہیں یا چھوٹی قریب کی جماعتیں ہیں یا دور کی توجہ دلاتا ہوں کہ جلد سے جلد وہ اپنی لسٹوں کو مکمل کر کے بھیج دیں۔کیونکہ ہندوستان کی جماعتوں کیلئے جو آخری تاریخ مقرر ہے اس میں اب بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں اور کوشش کریں کہ اگر وہ اَلسَّابِقُونَ الاَوَّلُونَ میں شامل نہیں ہو سکے تو کم از کم -