خطبات محمود (جلد 19) — Page 14
خطبات محمود ۱۴ سال ۱۹۳۸ء پھسڈی کے بھی نہ رہیں اور اپنے اخلاص سے کام لیتے ہوئے قربانیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کریں۔کیا یہ افسوس کی بات نہیں کہ ہندوستان سے باہر کی جماعتیں جن کو اپریل تک مہلت حاصل ہے وہ تو اپنے وعدے بھجوا رہی ہیں مگر ہندوستان کی کئی جماعتیں جو بغل میں بیٹھی ہوئی ہیں وہ بالکل خاموش ہیں اور انہوں نے وعدے بھجوانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔اگر افریقہ کے لوگ اس قسم کی پستی دکھا سکتے ہیں اور ایسی جگہوں سے اپنے وعدے اِس عرصہ میں بھیج سکتے ہیں جہاں سے خط بھی پندرہ دن میں پہنچتا ہے تو کیا یہ افسوس اور شکوہ کی بات نہ ہوگی کہ پنجاب اور ہندوستان کی جماعتوں کے عہدیدا رسستی دکھا ئیں اور وہ خاموشی سے بیٹھے رہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ۳۱ / جنوری ۱۹۳۸ ء تک انہیں مہلت حاصل ہے مگر اس میعاد کے ابتدائی وقت میں شامل ہونے کی بجائے آخری وقت شامل ہونے کی کوشش کرنا بھی کوئی اچھی علامت نہیں۔بے شک بہت جلدی بھی اچھی نہیں ہوتی اور ان لوگوں کو جو معمولی توجہ سے ہو سکتے ہیں ترک کر دینا کوئی خوبی نہیں مگر اس کے یہ معنے بھی نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھا رہے اور کہے کہ ابھی کافی وقت ہے۔آخری تاریخ کو خط لکھ دیں گے۔حیدرآباد کی جماعت کافی دور ہے مگر وہ بڑی جماعتوں میں سے ایک ہے۔جنہوں نے بہت جلد اپنے وعدے بھجوا دیئے ہیں۔بیشک اس میں بھی بعض کمزور ہیں مگر ایسے بھی لوگ ہیں جو قربانی کی حقیقت کو سمجھتے ہیں اور وہاں سے جو چندہ آتا ہے وہ مقدار کے لحاظ سے بڑی بڑی جماعتوں کے چندوں کے برابر ہوتا ہے۔وہاں سے یہاں پانچ دن میں خط آتا ہے۔لیکن میری اس تحریک کے دسویں بارھویں دن حیدر آباد کی جماعت کے وعدوں کا بہت سا حصہ پہنچ چکا تھا۔نومبر کے آخر میں میں نے یہ تحریک کی تھی اور ابھی اس تحریک پر دس بارہ روز نہیں گزرے تھے کہ اس جماعت نے اپنے وعدہ کی لسٹ بھیج دی جو بہت حد تک مکمل تھی اور جو چند اور دوست باقی رہتے تھے اُن کی لسٹ ۱۵-۲۰ دسمبر تک پہنچ گئی۔بلکہ پہلے انہوں نے بذریعہ تاراپنے وعدے بھجوائے اور پھر تفصیلی فہرستیں بعد میں بھیجیں۔ان کی اس سرگرمی اور اخلاص کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ پہلے سال انہوں نے چھتیں سو روپیہ داخل کیا تھا مگر اس سال پہلے ۳۵ سو کی لسٹ بھیجی اور اب تک چار ہزار کی لسٹ بھیجوا چکے ہیں اور ابھی کہہ رہے ہیں کہ اور وعدے بھی بجھوائیں گے۔