خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 12

خطبات محمود ۱۲ سال ۱۹۳۸ء ایسے باقی ہیں جنہوں نے پوری کوشش نہیں کی۔اسی طرح لجنہ اماءاللہ نے بھی پوری کوشش کر کے عورتوں سے وعدے نہیں لکھوائے لیکن پھر بھی ایک معقول رقم قادیان والوں کی طرف سے پیش ہو چکی ہے۔جنہوں نے سستی کی ہے اور ابھی تک اپنے وعدے نہیں بھجوائے ان کو مستی کرتے ہوئے جو وعدے آچکے ہیں اور جنہوں نے اس تحریک میں حصہ لیا ہے انہوں نے خدا تعالیٰ کے فضل سے اخلاص کا نہایت ہی اعلیٰ نمونہ دکھایا ہے۔چنانچہ بہت سی جماعتوں نے اپنے تیسرے سال کے وعدہ سے بھی زیادہ چندہ دینے کا وعدہ کیا ہے اور بہت سے افراد ایسے ہیں جنہوں نے اپنے پہلے سال کے چندہ سے دو گنا بلکہ تکنا اور تیسرے سال سے بھی کچھ زیادہ چندہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔اس کے مقابلہ میں جو لوگ اَلسَّابِقُونَ الْاَوَّلُونَ میں شامل نہیں ہو سکے اور پیچھے رہ گئے ہیں ، ان میں سے بعض کی حالت نمایاں طور پر قابلِ اعتراض ہے۔چنانچہ بعض دوست اس دفعہ جلسہ پر آئے اور انہوں نے بیان کیا کہ ہمارے سیکرٹری اور پریذیڈنٹ نے چونکہ خود چندہ نہیں دیا اس لئے جب اس تحریک کا ان سے ذکر ہو تو وہ کہہ دیتے ہیں میاں یہ طوعی چندہ ہے جس کی مرضی ہو اس میں حصہ لے اور جس کی مرضی ہو نہ لے۔ایسے سیکرٹریوں اور پریذیڈنٹوں کو دیکھتے ہوئے میں نے پہلے سے دوستوں کو ہوشیار کر دیا تھا اور بتا دیا تھا کہ جب وہ اپنے کسی سیکرٹری کو ئست دیکھیں تو اس کی جگہ کسی اور کو تحریک جدید کا سیکرٹری مقرر کر لیں اور اپنے سیکرٹری یا پریذیڈنٹ کی غفلت اور سستی کی وجہ سے ثواب کے اس موقع کو نہ کھوئیں۔پس جس جس جگہ کی جماعتوں کے سیکرٹریوں نے اپنے فرائض کی طرف کما حقہ توجہ نہیں کی انہیں چاہئے کہ وہ اگر دیکھیں کہ ان کے سیکرٹری اپنے فرائض کی ادائیگی میں ستی کر رہے ہیں تو اُن کی بجائے کسی اور کو سیکرٹری مقرر کر دیں اور اگر ساری جماعت میں سے کوئی ایک ہی دوست ایسا ہے جو پچست ہے تو وہی آگے آجائے اور اپنے آپ کو پریذیڈنٹ اور سیکرٹری تصور کر کے کام شروع کر دے کیونکہ خدا تعالیٰ کی دین بعض دفعہ ایسے رنگ میں آتی ہے کہ انسان کو اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔ممکن ہے پہلے سیکرٹری اور پریذیڈنٹ کو اللہ تعالیٰ ثواب سے محروم رکھنا چاہتا ہو اور اب اس نے شخص کو ثواب کا موقع دینا چاہتا ہو۔پس وہ پیچھے نہ رہے بلکہ آگے آئے اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی