خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 108

خطبات محمود 1+A ٨ سال ۱۹۳۸ صدر انجمن احمدیہ کے کارکنوں اور جماعت کے افراد سے خطاب فرموده ۲۵ فروری ۱۹۳۸ء) تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- آج نزلہ اور گلے میں خراش کی وجہ سے میں زیادہ بول نہیں سکتا علاوہ از میں دائیں پاؤں میں در دنقرس کا دورہ ہو گیا ہے اس لئے زیادہ کھڑا بھی نہیں ہوسکتا۔اس وجہ سے میں آج بہت ہی چھوٹا خطبہ کہنا چاہتا ہوں۔میں نے پچھلے خطبہ میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ منہاج نبوت کے مطابق جو انتظام ہوتا ہے وہ اور قسم کا ہوتا ہے اور مغربی اصول کے مطابق اور قسم کا۔منہاج نبوت کے مطابق جو انتظام ہوتا ہے اس میں نہ کام کرانے والے کوئی معاوضہ مقرر کرتے ہیں اور نہ کام میں مدد کر نے والے کوئی حد بندی لگاتے ہیں۔منہاج نبوت کے مطابق نہ تو یہ شرط ہوتی ہے کہ کوئی شخص دین کی ضرورت کے وقت ایک پیسہ یا دھیلہ یا دمڑی فی روپیہ چندہ دے اور نہ یہ شرط ہوتی ہے کہ کوئی شخص چار پیسے یا چھ پیسے فی روپیہ چندہ دے بلکہ زکوۃ مقررہ اور مفروضہ اور صدقات مقررہ کے بعد ہر انسان کا یہ فرض ہوتا ہے کہ اپنی طاقت اور اسلام اور سلسلہ کی ضرورت کے مطابق چندہ دے۔اسی طرح جو لوگ کام کرتے ہیں ان کا معاوضہ مقررہ شرحوں پر نہیں ہوتا بلکہ حسب استطاعت سلسلہ بڑھتا اور گھٹتا رہتا ہے۔کوئی شخص بھی اپنے گھر کا بجٹ بناتے ہوئے کبھی یہ فیصلہ نہیں کیا کرتا کہ میں اپنی بیوی بچوں کی بیماری پر اس قدر رقم خرچ کروں گا اس سے