خطبات محمود (جلد 19) — Page 109
خطبات محمود 1+9 سال ۱۹۳۸ء زیادہ خرچ کی اگر ضرورت پڑی تو انکار کر دوں گا۔پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ اسلام کی خدمت کیلئے حد بندی کی جائے۔اسی طرح کوئی زمیندار کبھی یہ نہیں کہتا کہ میں اپنی زمین پر محنت اس صورت میں ہی کرسکتا ہوں کہ جب دس روپیہ ماہوار مجھے معاوضہ ملے۔بسا اوقات اس کی زمینداری نقصان پر جارہی ہوتی ہے اور وہ کہیں باہر جا کر زمین کی آمد سے زیادہ کما سکتا ہے مگر وہ اسے چھوڑتا نہیں ہر وقت بنتا رہتا ہے ، بیل سے بھی زیادہ محنت کرتا ہے۔صرف اسی وجہ سے کہ وہ سمجھتا ہے یہ میری زمین ہے۔پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے ساتھ یہ شرط کریں کہ اگر کی ہمارا اتنا گریڈ ہو یا اتنی رقم دی جائے تو ہم کام کریں گے ورنہ نہیں۔اسی طرح چندہ کی حد بندی خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر غیریت پر دلالت کرتی ہے نہ کہ تعلق پر۔اللہ تعالیٰ اور بندہ کا معاملہ آپس میں ایسا ہونا چاہئے کہ جو تمام تعلقات سے زیادہ مضبوط اور تمام قرابتوں سے زیادہ قرب والا ہو۔آقا اور ملازم والا معاملہ نہیں ہونا چاہئے۔میں نے گزشتہ خطبہ میں کارکنوں کے معاوضہ کے متعلق جو بات کہی مجھے خوشی ہے کہ اس پر کئی کارکنوں نے لبیک کہا ہے۔بعض نے تو یہ لکھا ہے کہ ہم پہلے ہی صدرانجمن کے ساتھ اپنا تعلق ملازمت کا نہیں سمجھتے تھے اور بعض نے یہ کہ ہم نے اب فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ ہم انجمن کے ساتھ اپنا تعلق تنخواہوں یا گریڈوں والا نہیں رکھیں گے بلکہ جو کچھ بھی گزارہ کیلئے ہمیں دیا جائے گا اسے قبول کر لیں گے۔اس کے مقابلہ میں میں جماعت سے یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ان کی ذمہ داری بھی اسی رنگ کی ہے۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ چندہ ایک آنہ فی روپیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کب مقرر کیا تھا یا پانچ پیسے کب مقرر کئے ہیں۔دوسرا کہتا ہے کہ جب میں نے پانچ پیسہ فی روپیہ کی شرح سے چندہ دے دیا تو جب تک دوسرا جو بالکل نہیں دیتا اتنا ہی ادا نہ کرے میری ذمہ داری نہیں بڑھ سکتی حالانکہ یہ طریق تو وو ”دیکھ لو سرکار اس میں شرط یہ لکھی نہیں، والا ہے اور آقا اور ملازم والا تعلق ہے، مُحب اور محبوب کا نہیں۔اور اگر اللہ تعالیٰ سے ہمارے تعلقات آقا و ملا زم والے ہوں تو ہمیں بھی اس سے آقا والے سلوک کی ہی امید رکھنی چاہئے