خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 58

خطبات محمود ۵۸ سال ۱۹۳۷ء انگریزوں کی مدد سے اسے بادشاہ بنوائے۔ایک موقع پر باغیوں نے ایک ایسی جگہ توپ نصب کی کہ انگریزی فوج بالکل قابو آ گئی۔اسے سخت نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا۔انگریزوں نے زینت محل کو کہلا بھیجا کہ آج مدد کا وقت ہے۔اُس نے جھٹ شور مچانا شروع کر دیا کہ میرا دل دھڑکتا ہے اور اگر یہاں سے توپ چلائی گئی تو میں مر جاؤں گی۔بادشاہ نے بہت منت سماجت کی اور اُسے سمجھایا مگر وہ نہ مانی۔ادھر بادشاہ بھی انہی لوگوں میں سے تھا جن کے نزدیک عورت کی قیمت حکومت سے زیادہ ہوتی ہے اس لئے اس نے توپ کو وہاں سے اٹھوادیا۔زینت محل اس خوف کے اظہار میں جھوٹی تھی تو بھی اور اگر سچی تھی تو بھی، بہر حال باشاہ کے اس کی جان بچانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے اٹھارہ نو جوان شہزادوں کے سرخوان پوشوں میں رکھ کر اُس کے سامنے پیش کئے گئے اور پیش کرنے والے سروں کو سوٹیوں سے ہلا ہلا کر اسے بتاتے تھے کہ یہ تمہارے فلاں شہزادے کا سر ہے اور یہ فلاں کا۔اگر اس وقت بہادر شاہ نظام اور حکومت کے مقابلہ میں بیوی کی جان کی پرواہ نہ کرتا تو کون کہہ سکتا ہے کہ آج ہندوستان کا نقشہ کیا ہوتا۔پس جو تو میں اپنی جان بچانا چاہتی ہیں وہی مرتی ہیں اور جو اپنی جانوں کو ہتھیلیوں پر لئے پھرتی ہیں وہی ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔اسی طرح جو تو میں اپنے مال چھپاتی ہیں وہی لوٹی جاتی ہیں اور جو اپنے مال کی ہتھیلی پر لئے پھرتی ہیں ان سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ہر ایک تم میں سے سمجھ سکتا ہے کہ کونسا زمیندار کماتا ہے ہے۔وہ جو اپنا غلہ اٹھا کر کھیت میں پھینک آتا ہے یا وہ جو گھڑوں اور مٹکوں میں اسے محفوظ رکھتا ہے۔جو تی گھڑوں میں بند کر کے رکھا جاتا ہے اسے یا تو وہ خود کھا لیتا ہے یا کیڑا کھا جاتا ہے۔مگر جو کھیت میں ڈالا کی جاتا ہے باوجود یکہ لوگ اسے پاؤں تلے روندتے ہیں، پرند اور چرند بھی اسے کھاتے ہیں مگر پھر بھی سینکڑوں گنا ہو کر گھر میں آتا ہے۔پس اپنے آپ کو نڈر بناؤ اگر تحریک جدید سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو، اور اپنے آپ کو صادق القول بناؤ اگر اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو۔اگر تم نڈر ہو جاؤ تو دنیا تم سے ڈرے گی اور اگر تم صادق القول بن جاؤ تو منافق تم سے ڈریں گے۔منافق اسی لئے دلیر ہوتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے میرا دوست جھوٹ بول کر مجھے بچالے گا اور اگر تم یہ دونوں صفات اپنے اندر پیدا کر لو تو نہ بیرونی دشمن اور نہ اندرونی تم پر قابو پاسکتا ہے۔لیکن اگر یہ باتیں تمہارے اندر پیدا نہیں ہوتیں تو تمہاری مثال اُس شخص کی ہوگی جو گلاب کی خوشبو کو دیکھنا چاہتا ہے، جو ترنم کی خوش آواز کو چُھو نا چاہتا ہے۔جو مخمل کی ملائمت کو چکھنا چاہتا