خطبات محمود (جلد 18) — Page 57
خطبات محمود ۵۷ سال ۱۹۳۷ء نے سچ بولنے کی عادت پیدا کر لی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ کئی لوگ میرے پاس آکر کہہ دیتے ہیں کہ فلاں شخص نے اس اس طرح کہا۔تو ہم نے آگے اس سے اس اس طرح بات بنا کر جواب دے دیا۔گویا ہ بے تکلفی سے میرے ہی سامنے اپنے جھوٹ کا اقرار کر جاتے ہیں اور میں خاموشی سے ان کا منہ دیکھتا رہتا ہوں۔کیونکہ گو انہیں اپنے جھوٹ کے اظہار سے شرم نہیں آتی مگر مجھے یہ کہنے سے شرم آ جاتی ہے کہ ނ پھر تو آپ اقراری جھوٹے ہوئے۔ہاں اپنے دل میں کہتا ہوں کہ میں اس بے شرم کو کیا کہوں۔پس یا د رکھو کہ سچائی اور بے خوفی قومی ترقی کیلئے ضروری چیزیں ہیں۔جس قوم میں ڈر ہے وہ کبھی نہیں جیت سکتی کیونکہ اس میں سچائی اور تو کل نہیں ہو سکتا۔اس لئے سچائی اور بے خوفی کی عادت ڈالو اور یا درکھو کہ کوئی انسان دنیا میں ہمیشہ نہیں رہ سکتا۔خدا اور اس کے دین کیلئے کسی انسان کی جان جانے کا موقع ہو لیکن وہ اپنی جان بچانے کی فکر کرے تو اسے کیا معلوم کہ آگے جاتے ہی خود بخود اس کی جان نکل جائے۔ایک انسان کو شہادت کا موقع تو اللہ تعالیٰ دے مگر وہ اس سے بھاگے تو کیا معلوم کہ وہاں۔ہٹتے ہی اس کا ہارٹ فیل ہو جائے اور وہ مرجائے۔خدا تو اسے ایک قیمتی چیز بنانا چاہے مگر وہ اس سے تو اپنے آپ کو بچالے لیکن آگے جا کر مُردہ گدھے کی طرح گر پڑے۔اسی طرح مالی قربانی کے متعلق بھی ہے۔ہر شخص اپنی زندگی میں دیکھ سکتا ہے اور ہر ایک نے دیکھا ہے کہ کون کہہ سکتا ہے کہ اس کا روپیہ بھی ضائع نہیں ہوا۔بسا اوقات خرید و فروخت میں نقصان ہو جاتا ہے، بعض اوقات کوئی جائداد تباہ ہو جاتی ہے اور بعض اوقات فصلیں خراب ہو جاتی ہیں اس لئے اگر موقع ملے تو کیوں نہ اپنے اموال کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دیا جائے تا اللہ تعالیٰ کی رضا تو حاصل ہو جائے۔ہندوستان میں مسلمان بادشاہ رہے ہیں۔آج تک کنگال سہی ، غریب سہی ، بے کس اور بے بس سہی مگر یہ خیال تو دماغوں سے نہیں مٹ سکتا کہ دو چار سو سال قبل تمہارے باپ دادا بحیثیت قوم بادشاہ تھے۔بحیثیت افراد نہ سہی آخر قوم میں سے ایک ہی بادشاہ ہوتا ہے۔آج انگریزوں میں سے بھی ایک ہی بادشاہ ہے پھر بھی ساری قوم شاہی قوم کبھی جاتی ہے۔مگر مسلمانوں کی بادشاہت آج کہاں ہے۔جب وہ مٹنے پر آئی تو کوئی چیز اسے نہ سنبھال سکی اور وہ اسی طرح مٹی تھی کہ جن کے پاس تھی وہ اپنی جانوں اور مالوں کی بہت بڑی قیمت سمجھنے لگے تھے۔غدر کے واقعات میں لکھا ہے کہ زینت محل سے جو بہادرشاہ کی چہیتی بیوی تھی ، وہ انگریزوں سے ملی ہوئی تھی۔وہ چاہتی تھی کہ اس کا لڑکا جو چھوٹا تھا اور رواج کے مطابق باپ کے بعد بادشاہ نہ ہو سکتا تھا