خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 59

خطبات محمود ۵۹ سال ۱۹۳۷ء ہے، تم ایسے شخص پر بنتے ہو مگر یہ نہیں جانتے کہ تم خود ایسے ہی ہو۔تم اسی دروازے سے داخل ہو کر ترقی کر سکتے ہو جو خدا نے کھولا ہے اور جسے خدا نے بند کیا ہے تم اسے نہیں کھول سکتے۔اچھی طرح یا د رکھو کہ تم خدا کے کھولے ہوئے دروازے سے داخل ہو کر اور اُس کے بند کئے ہوئے دروازے سے مُڑ کر ہی کامیاب ہو سکتے ہو۔اگر تم اُس کے بند کئے ہوئے دروازے سے داخل ہونے کی کوشش کرو گے تو ی تمہارے لئے سوائے رونے اور دانت پیسنے کے کچھ نہ ہوگا اور اگر اُس کے کھولے ہوئے دروازے سے داخل ہونے کی کوشش کرو گے تو بیشک اس میں تلواریں لٹک رہی ہیں ، بھیا نک نظارے اور خونخوار درندے ہیں مگر جو نہی تم قدم رکھو گے وہ جادو کی طرح اُڑ جائیں گے۔خدا تعالیٰ نے اپنی جنت کو دوزخ کے نیچے چُھپایا ہے اور دوزخ کو دنیا کی جنت کے نیچے چھپایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کی آیت وَ اِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا ۵ کے یہی معنے کئے ہیں کہ کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ جہنم سے نہ گزرے۔بعض مفسرین کی نے لکھا ہے کہ اس میں صرف کفار کا ذکر ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس سے مراد سب انسان ہی لئے ہیں لیکن معنوں سے دوسرے مفسرین سے اختلاف کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ کافر اگلے جہاں کی جہنم سے گزر کر جنت میں داخل ہوتا ہے لیکن مومن اس دنیا کی جہنم سے گزر کر جنت میں کی داخل ہوتا ہے۔اور کوئی مومن جنت میں نہیں جاسکتا جب تک وہ دوزخ میں سے نہ گزرے یعنی اس کی دوزخ سے جو اس دنیا میں ہے۔پس یا د رکھو کہ ہر وہ شخص جو خدا کیلئے دوزخ میں گو دتا ہے وہ آنکھیں کھولے گا تو خدا تعالیٰ کی گود میں ہوگا۔وہ اپنے آپ کو مرنے کیلئے پیش کرے گا مگر اُسے ابدی زندگی دی جائے گی۔وہ اپنے آپ کو مٹانے کیلئے آگے بڑھتا ہے مگر اسے بقا کا مقام حاصل ہوتا ہے۔یہی رستہ ہے جس پر چل کر تم کامیاب ہو سکتے ہو اور جو اس کے بغیر کسی اور رستہ پر چلنے کی کوشش کرتا ہے وہ پہاڑ سے ٹکراتا ہے۔وہ اپنا سر تو چکنا چور کر لے گا مگر کامیابی کا رستہ ہر گز نہیں پاسکے گا۔الفضل ۲۷ فروری ۱۹۳۷ ء ) بخارى كتاب في اللقطة باب ضالة الغنيم ٣ وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المومن : ٢٠)