خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 280

خطبات محمود ۲۸۰ سال ۱۹۳۷ء بنواتے تھے اور ایک اور عورت ان کے ساتھ تھی ان تینوں کو سزا ہوئی تھی ہے۔تو کیا کوئی کہہ سکتا تھا کہ ان کو نقصان کا کوئی احتمال نہ تھا کون نہیں جانتا کہ عداوتوں اور دشمنیوں کی وجہ سے لوگ خود نقصان اٹھا کر بھی دوسروں کو ذلیل کرتے ہیں۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان کو نقصان کا کوئی احتمال نہ تھا۔کون نہیں جانتا کہ کی عداوتوں اور دشمنیوں کی وجہ سے لوگ خود نقصان اُٹھا کر بھی دوسروں کو ذلیل کرتے ہیں۔کیا مصری کی صاحب کی قربانی حسان اور مسطح سے زیادہ ہے؟ خود قرآن کریم گواہ ہے کہ حضرت ابو بکر نے قسم کھائی تھی کہ اب میں مسطح کی مدد نہیں کروں گا۔2 مگر چونکہ یہ جرم حکم قرآنی کے نازل ہونے سے پہلے کا تھا اس کی لئے اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا۔وہ تو معذور تھے مگر تیرہ سو سال تک یہ قرآنی حکم سننے کے بعد جو مجرم بنے وہ کس طرح اپنی بریت کر سکتا ہے۔جو قربانی مصری صاحب نے کی ہے اس سے بڑھ کر مسطح نے کی تھی۔اس کے کھانے اور کپڑے تک کا کوئی انتظام نہ تھا حتی کہ اس کے پاس رہنے کیلئے کوئی مکان تک نہ تھا وہ بدری صحابی بھی تھا۔پس اس سے بڑھ کر مصری صاحب میں کون سی چیز ہے۔اسی طرح حسان بھی صحابی کی تھے اور شاعر اسلام تھے۔کیا یہ لوگ سمجھتے تھے کہ جب ہم حضرت عائشہ پر الزام لگائیں گے تو ہماری بڑی عزت ہوگی اور حضرت ابو بکر بلا کر ہمارا وظیفہ مقرر کر دیں گے؟ نہیں بلکہ انہیں خوب علم تھا کہ کس قدر مشکلات کا سامنا ہوگا۔مسطح اچھی طرح جانتا تھا کہ حضرت ابو بکر روٹی کپڑا بند کر دیں گے اور مکان۔بھی نکال دیں گے اور حستان پر تو ایک صحابی نے تلوار سے حملہ کر دیا تھا اور ایک دوسرے صحابی نے بچایا کہ سزا دینا رسول کریم ﷺ کا کام ہے تمہارا نہیں۔جس طرح کہ آج میں شریعت کا واسطہ دے کر احباب جماعت کو روکتا رہتا ہوں کہ دیکھنا جماعت کو بدنام نہ کرنا۔یہ لوگ ہمارے محلوں میں جاتے اور احمد یوں کے مکانوں کے اندر اشتہار پھینک کر آتے ہیں اور اس طرح اشتعال دلاتے ہیں۔ان کی طرف سے فساد انگیزی میں کوئی کسر باقی نہیں۔یہ میری اس تعلیم کی وجہ سے ہی ہے کہ اپنے جوشوں کو قابو میں رکھو اور کوئی ایسی حرکت نہ کرو جس سے احمدیت بدنام ہو۔یہ لوگ یہاں اس قدر اشتعال انگیزی کے باوجود امن سے رہ رہے ہیں ان دنوں ان کی زندگیوں کی ایک ایک گھڑی میرے احسان کے نیچے ہے۔میں ہی ہوں جو خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی طبائع کو ٹھنڈا کرتا ہوں اور میری ہی متواتر ہدایات کی وجہ سے لوگ اپنے جوشوں کو دبائے ہوئے ہیں۔ورنہ کسی ادنیٰ سے ادنی آدمی کے متعلق بھی کوئی اس قسم کی باتیں کر سکتا ہے؟