خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 281

خطبات محمود ۲۸۱ سال ۱۹۳۷ء مستریوں نے جب اس قسم کے الزام لگائے تو میں نے اُن کو بلا یا تھا اور دریافت کیا تھا کہ سنا ہے تم ایسی باتیں کرتے ہو۔پہلے تو بیٹا کہنے لگا کہ نہیں میں نے تو آپ کے متعلق یہ خواب دیکھا تھا، بھلا میں ایسی باتیں کر سکتا ہوں؟ اور باپ نے کہا کہ یہ تو مجھے سمجھاتا رہتا ہے مگر آہستہ آہستہ انہوں نے کی اقرار کر لیا۔اس پر میں نے انہیں کہا کہ جانے دو اس بات کو کہ میں خلیفہ ہوں ، جانے دو احمدیت کے جتنے کو تم جانتے ہو فلاں شخص نماز نہیں پڑھتا اور فلاں شخص شراب پیتا ہے اور ان کی حیثیت گاؤں میں وہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے حاصل ہے مگر تمہاری جرات ہے کہ بازار میں جا کر کہو کہ فلاں شخص شراب پیتا ہے یا فلاں شخص نماز نہیں پڑھتا ؟ تم ہر گز یہ جرات نہیں کر سکتے کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ اگر ایسا کہا تو اس قدر جوتے پڑیں گے کہ سر پر ایک بال نہیں رہے گا۔پھر قادیان میں مجھے جو مالکانہ حیثیت حاصل ہے اسے بھی جانے دو۔تم کسی گاؤں میں دو گھماؤں ملکیت رکھنے والے کسی شخص کے متعلق ہرگز ایسی باتیں کرنے کی جرات نہیں کر سکتے اور اس طرح گویا تم اپنے فعل سے شہادت دیتے ہو کہ میں شریف ہوں اور پُر امن ہوں۔ورنہ جو باتیں تم میرے متعلق کہتے ہو ان کا سوواں بلکہ ہزارواں حصہ بھی کسی اور کے متعلق تم نہیں کہہ سکتے۔اور اب یہی بات میں اِن لوگوں سے کہتا ہوں۔وہ کہتے ہیں کہ جماعت کے ۸۰ فیصدی لوگ ہمارے ساتھ ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ اسی فیصدی نہیں نوے پچانوے بلکہ ننانوے فیصدی سہی بلکہ ۳/۴ ۹۹ فی صدی سہی۔قادیان میں اس وقت آٹھ ہزار احمدی ہیں۔ان میں سے ۳/۴-۹۹ فی صدی بھی اگر ان کے ساتھ ہوں اور صرف ۲۴ ہی میرے ساتھ۔مگر کیا جس کے واسطے ۲۴ آدمی بھی جان دینے کو تیار ہوں اُس کے متعلق کوئی ایسی باتیں کر سکتا ہے؟ بلکہ میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ جس کے ساتھ ایک بھی آدمی نہ ہو اُس کے متعلق بھی کوئی نہیں کہہ سکتا۔کیا دنیا میں لوگ اشتعال میں آکر خود بدلہ نہیں لے لیتے ؟ آخر ہم لوگ ایسے خاندان سے تو تعلق نہیں رکھتے جس نے کبھی لڑائی میں ہاتھ نہ ڈالا ہو۔ہمارے خاندان کی تاریخ جنگی تاریخ ہے اور اب بھی ہمارا فوج کے ساتھ تعلق ہے۔میں نے خود میرزا شریف احمد صاحب کو فوج میں داخل کرایا ہے اور اب ان کا ایک لڑکا فوج میں شامل ہو رہا ہے۔ہمارے تایا صاحب نے غدر کے موقع پر جنگ میں نمایاں حصہ لیا۔ہمارے دادا فوجی جرنیل تھے۔دلی کے بادشاہوں کی چٹھیاں ہمارے پاس محفوظ ہیں جن میں اس امر کا اعتراف ہے کہ ہمارا خاندان ہی