خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 279

خطبات محمود ۲۷۹ سال ۱۹۳۷ء مخالف ہو۔وہ کہتے ہیں کہ انہیں دو سال سے علم تھا کہ میں اس قابل نہیں ہوں کہ میری بیعت کی جائے۔مگر پھر بھی جماعت میں شامل تھے اور اسی کو منافق کہتے ہیں۔منافق صرف دینی امور میں ہی نہیں دُنیوی امور میں بھی کوئی شخص منافق ہو سکتا ہے۔جو شخص کسی کارخانہ میں ملازم ہے اور تنخواہ لیتا ہے اور پھر اس کارخانہ کے راز بھی دوسروں کو بتاتا ہے ، اسے بھی ہم منافق ہی کہیں گے۔منافق وہ نہیں ہوتا جو اسلام سے نکل جائے بلکہ منافق جماعت کے اندر شامل ہوتا ہے اور شامل ہوتے ہوئے مخالفت کرتا ہے۔تو ی مصری صاحب اپنی منافقت کا اقرار کرتے ہیں مگر پھر بھی چاہتے ہیں کہ جماعت منافق کو منافق نہ کہے۔وہ تسلیم کرتے ہیں کہ دو سال سے مجھے ان باتوں کا علم تھا۔اور منافق کیلئے کسی معیاد کی شرط نہیں خواہ کسی کے خیالات بگڑ جائیں اور وہ دو روز ہی ان کو چھپا کر اس جماعت سے فائدہ اٹھاتا رہے وہ منافق ہے۔اور خیالاگ بگڑنے کی صورت میں اس کا فرض ہے کہ اُسی وقت فیصلہ کرے۔یا تو تسلی کرلے اور یا پھر جماعت سے الگ ہو جائے۔مگر جو شخص یہ تسلیم کرتا ہے کہ اس کی حالت دو سال سے ایسی تھی اور ہماری تحقیقات یہ ہے کہ ان کی یہ حالت اس سے بھی بہت پرانی تھی مگر چونکہ ہماری تحقیقات تابع ہے ان الزامات کے اس لئے جب وہ ان کو ظاہر کریں گے اُسی وقت ہم بھی کریں گے۔پھر مصری صاحب لکھتے ہیں کہ آپ اس بھائی کو جو محض آپ لوگوں کو ایک خطر ناک ظلم سے جس سے آپ میں سے اکثر بے خبر ہیں کے پنجہ سے چھڑانے کیلئے اپنی عزت، اپنا مال ، اپنی سبیلِ معاش ، اپنا آرام ، اپنے اہل وعیال کا آرام، اپنے عزیز بچوں کی تعلیم سب کچھ قربان کر کے نکلا ہے۔گویا تمہیں ایسا گندہ خلیفہ ملا ہوا تھا جو جماعت کو تباہ کر رہا اور دہریت کی طرف لے جا رہا تھا۔میں نے تمہاری خیر خواہی کی اور تمہاری خاطر اس قدر قربانی کی اور پھر تم میرے دشمن ہو گئے۔مگر میں کہتا ہوں کہ کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانے والوں نے قربانی نہ کی تھی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسْكِيْنَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلْيَعْفُوا وَلَيَصْفَحُوا ل حضرت عائشہ پر الزام لگانے کی وجہ سے تین اشخاص کو کوڑے لگے تھے جن میں سے ایک حسان بن ثابت تھے جو آنحضر کا شاعر اعظم تھا اور ایک مسطح تھا جو حضرت عائشہ کا چچا اور حضرت ابو بکر کا خالہ زاد بھائی تھا۔وہ اس قدر غریب آدمی تھا کہ حضرت ابو بکر کے گھر میں ہی رہتا ، وہیں کھانا کھاتا اور آپ ہی اس کیلئے کپڑ۔