خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 116

خطبات محمود ١١٦ سال ۱۹۳۷ء وہ جس پر گرتا ہے اُس کی مخفی استعدادوں کو ظاہر کر دیتا ہے۔جس طرح بارش کا پانی جب انگور پر پڑتا ہے تو اسے زیادہ میٹھا کر دیتا ہے اور کھٹے پر پڑتا ہے تو اسے زیادہ کھٹا بنا دیتا ہے۔وہ گیہوں پر گرتا ہے تو اسے زیادہ موٹا کرتا ہے اور جو پر گرتا ہے تو اسے بھی موٹا کرتا ہے۔وہ صرف نشو ونما دیتا اور خفیہ طاقتوں کو بیدار کرتا ہے۔جہاں خفیہ طاقتیں بُری ہوں وہاں وہ اُن کو اُبھارتا ہے اور جہاں اچھی ہوں وہاں اُن کو اُبھارتا ت ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ قرآن کریم کا نتیجہ تھے۔مگر کیا اس میں بھی کوئی شبہ ہے کہ ابو جہل بھی قرآن کریم کا ہی نتیجہ تھا۔اگر قرآن کریم نے ایک طرف محمد رسول اللہ اللہ کی طاقتوں کو ابھارا کر آپ کو خاتم النبین بناد یا تو دوسری طرف بُری طاقتوں کو ابھار کر ابو الحکم کو ابوجہل بنادیا۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم فرماتا ہے يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَّ يَهْدِي بِهِ كَثِيرًا۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ قرآن کریم بری باتیں سکھاتا ہے بلکہ یہ ہے کہ اس کی مثال پانی کی ہے جو تھوہر کو بھی اور انگور کو بھی نشو و نما بخشتا ہے۔پانی تو صاف ہوتا ہے مگر اس کا کام خفیہ طاقتوں کو بیدار کرنا ہوتا ہے جو اندر ہو وہ باہر آ جاتا ہے۔اسی لئے قرآن کریم کا نام البیان بھی رکھا گیا ہے؟۔کیونکہ وہ ظاہر کر دیتا ہے۔تو رسول کریم اللہ کے زمانہ میں بھی ایسی مخفی طاقتوں والے لوگ مدعی بن کر کھڑے ہوئے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بھی جن کے دلوں میں مخفی کبریا دریا تھا ان پر جب الہام کا ی پانی گرا تو وہ دعوے کرنے لگے۔اسی قسم کا ایک مریض یہاں پچھلے دنوں آیا تھا۔میں نے سنا ہے بعض لوگ اس کی طرف منسوب کر کے باتیں میرے متعلق کہتے تھے جو مجھ تک پہنچتی تھیں۔میں نے سمجھ لیا کہ ضرور کوئی بات ہے اور شاید یہی لوگ اُس کو یوں کہتے ہیں۔آخر اس کا ایک بھائی میرے پاس آیا اور اُس نے بتایا کہ میں نے اسے کہا تھا کہ تمہارے دماغ میں نقص ہے تمہیں چاہئے کہ سوچو اور غور کرو اور ایسی باتیں نہ کرو۔تو اُس نے جواب دیا کہ تم تو مجھے یہ کہتے ہو مگر قادیان کے بعض بڑے بڑے آدمی مجھے یوں کہتے ہیں کہ تمہیں کوئی جنون وغیرہ نہیں تم بالکل ٹھیک کہتے ہو۔میں نے کہا اس نے ایک فلاں شخص کا نی نام لیا ہوگا اور اُس نے اقرار کیا کہ ہاں۔دوسرا نام بھی میں لینا چاہتا تھا مگر اخفاء سے کام لیا اور وہ اس نے خود ہی لے دیا۔تب میں نے کہا کہ میں یہ نام لینا چاہتا تھا مگر مصلحتاً خاموش رہا تھا سو یہ نہیں کہ مجھے علم نہیں ہوتا بلکہ بعض دفعہ تو اس لئے خاموش ہو جاتا ہوں کہ ثبوت اس حد تک نہیں ہوتا کہ جس کی موجودگی میں شریعت گرفت کی اجازت دیتی ہے اور بعض دفعہ اس لئے خاموش رہتا ہوں کہ شاید اللہ تعالی ہدایت کی