خطبات محمود (جلد 18) — Page 117
خطبات محمود لا سال ۱۹۳۷ء دے دے۔اگر چہ میں جانتا ہوں کہ منافق کو ہدایت بہت کم ملتی ہے مگر پھر بھی سو میں سے دس ایسے بھی دیکھے گئے ہیں جن کو ہدایت نصیب ہو گئی۔گو اب میری رائے یہی ہوتی جارہی ہے کہ منافقوں کو زیادہ ڈھیل دینا شاید اور منافق پیدا کرنے کا موجب ہو۔کیونکہ جب ایک منافق نکلتا ہے تو وہ کوئی نہ کوئی بیجی چھوڑ جاتا ہے جو اپنے وقت پر پودا پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے۔لیکن اس کا علاج میں اب تک نہیں سوچ کی سکا کہ شریعت جب تک سزا کی اجازت نہیں دیتی اُس وقت تک کیا کیا جائے۔کیونکہ ایسے ثبوت سے سزا پہلے اگر سزا دی جائے تو ظلم کا راستہ کھل جاتا ہے۔بہر حال ایسے لوگ مجھ سے پوشیدہ نہیں ہوتے اور بعض اوقات اللہ تعالیٰ رویا میں ان کی شکلیں بھی دکھا دیتا ہے۔ایک دفعہ میں اپنے بڑے گھر میں تھا یعنی جہاں میری بڑی بیوی رہتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی صحن میں رہا کرتے تھے۔مجھے نیچے گلی میں کچھ کھڑ کا معلوم ہوا اور ایسا القاء ہوا کہ گویا نیچے منافقین ہیں۔میں نے نالی کے سوراخ میں سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ کچھ لوگ دیواروں سے لگے کھڑے ہیں اور اندر جھانک کر کچھ دیکھنا چاہتے ہیں یا کان لگا کر سننا چاہتے ہیں۔جب انہیں معلوم ہوا کہ میں دیکھ رہا ہوں تو وہ بھاگے۔وہ تعداد میں جہاں تک یاد ہے نو تھے۔بھاگتے ہوئے ان میں سے بعض کو میں نے پہچان بھی لیا اور ایک کا علم تو اب تک ہے۔مگر بعض کے متعلق اللہ تعالیٰ نے عفو سے کام لیا اور میں اُن کو دیکھ نہ سکا۔بعض دفعہ اللہ تعالیٰ اس طرح بھی کرتا ہے کہ بعض دفعہ ایک شخص میرے سامنے آتا ہے اور اللہ تعالیٰ مجھ پر اُس کا اندرونہ کھول دیتا ہے اور مجھے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس پر ان دنوں نفاق کی حالت طاری ہے۔مگر میں خاموش رہتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دے دے۔لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ منافقوں پر نصیحت کا اثر کم ہی ہوتا ہے۔کیونکہ وہ اپنے آپ کو ہوشیار اور ہم کو بیوقوف ، ہمیں مفسد اور اپنے آپ کو مصلح سمجھتے ہیں۔ایسی صورت میں ہماری نصیحت اُن پر کیا اثر کر سکتی ہے۔پھر وہ سمجھتے ہیں کہ شاید ہم ان سے ڈرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر فی الواقعہ ہمارے متعلق علم ہے تو ہمیں نکالتے کیوں نہیں اور جب کسی منافق کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ چونکہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں وہ اپنے دل میں کہتے ہیں وہ کوئی اور بیوقوف ہوگا جس کا علم ہو گیا ہم ایسی ہوشیاری سے کام کرتے ہیں کہ ہمیں پکڑ نا آسان نہیں۔پس میں اُن سے نہیں بلکہ تم لوگوں سے جو مخلص ہو کہتا ہوں کہ غور کرو کیا منافق کوئی نئی قسم کا سر