خطبات محمود (جلد 18) — Page 115
خطبات محمود ۱۱۵ سال ۱۹۳۷ء بھی نہیں ہوتا۔مجھے ایک ایک بات کی رپورٹ پہنچتی ہے اور جن کے سامنے وہ باتیں کرتے ہیں وہ کون سے چھپاتے ہیں۔مثلاً پیغامی ہی ہیں وہ ایسے لوگوں کی باتوں کو کب چھپاتے ہیں۔پرسوں ہی ایک عزیز کا خط مجھے آیا۔وہ مجھے لکھتے ہیں کہ میں ریل میں سوار تھا اور فلاں پیغامی بھی وہیں بیٹھے تھے۔اس پیغامی کو یہ معلوم نہ تھا کہ میں کون ہوں وہ کہنے لگا دیکھو قادیان کے فلاں فلاں آدمی کتنے مخلص سمجھے جاتے ہیں مگر ہم لوگ جب جاتے ہیں تو وہ ہم سے ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں۔اس عزیز کیلئے یہی بات اچنبھا تھی مگر میرے لئے نہیں۔میں ان میں سے بعض کے متعلق دس دس سال۔جانتا ہوں۔بعض کے متعلق دو سال اور بعض کے متعلق ایک سال سے مجھے علم ہے۔مگر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی چالا کی سے گزارہ کر رہے ہیں حالانکہ ان کا گزارہ صرف مومنانہ عفو اور درگزر سے ہے ورنہ خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے آج سے دس سال ، چار سال، دو سال، ایک سال اور اگر وہ حدیث العہد ہیں تو چھ ماہ کی قبل بھی تو فیق تھی کہ ان کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دوں اور آج بھی اگر وہ پکڑے جائیں تو قسمیں کھائیں گے کہ یہ سرا سرا تہام ہے ، بہتان ہے۔مگر اب وہ سمجھتے ہیں کہ بڑے بہادر ہیں اور میں ان سے ڈرتا ہوں یا وہ بڑے چالاک اور ہوشیار ہیں اور مجھے ان کا علم نہیں۔ان کی مثال اُس کبوتر کی سی ہے جس پر جب بلی حملہ کرتی ہے تو وہ اپنی آنکھیں بند کر لیتا اور سمجھتا ہے کہ اب وہ مجھے دیکھ نہیں سکتی۔یہاں ایک بیچارہ آدمی تھا جس کی عقل میں فتور آگیا تھا اور چونکہ ہم زمانہ الہام کے بالکل قریب ہیں اس لئے احمدیوں میں سے اگر کسی کا دماغ خراب ہو تو وہ نبوت یا ماموریت کا دعوی کرتا ہے۔جیسے رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بہت سے جھوٹے مدعیانِ نبوت کھڑے ہوئے تھے۔آجکل غیر احمدی اعتراض کرتے ہیں کہ مدعیان نبوت و ماموریت احمدیوں میں ہی پیدا ہوتے ہیں۔مگر نادانوں کی کو نظر نہیں آتا کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی مسلمانوں میں سے ہی ایسے لوگ پیدا ہوتے تھے۔یہ تو ہماری صداقت کی علامت ہے۔قرآن کریم بتا تا ہے کہ جب بارش کا پانی اترتا ہے تو اچھے اور بُرے دونوں قسم کے پودے اس سے نشو و نما پاتے ہیں۔اسی طرح جب الہام کا پانی اترتا ہے تو آسمانی ترقی کے متعلق جو حرصیں اور آرزوئیں ہوتی ہیں وہ دعوؤں کی شکل میں نمودار ہوتی ہیں۔ایک ہی پانی سے انگور میٹھا اور نظل کڑوا ہوتا ہے۔اسی سے کھمب تریاقی صفت ہوتی ہے اور پر بھیڑ ا زہریلا۔الہی کلام بھی پانی کی حیثیت رکھتا ہے۔