خطبات محمود (جلد 18) — Page 567
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء پ کی نظروں سے غائب ہو گئے اور خدا ہی خدا آپ کو نظر آنے لگ گیا۔گویا ایک آپ کا وجود تھا اور ایک خدا کا۔انسانی وجودوں میں سے واحد وجود آپ کا تھا اور خدا تو ایک ہے ہی۔اور پھر اس لحاظ سے بھی آپ تو حید کے مقام پر تھے کہ تو کل کا اعلیٰ مقام آپ کو حاصل تھا اور آپ کی نظر خدا کے سوا اور کسی کی طرف نہ اُٹھتی تھی۔پھر صفت ربّ العلمین کا مادہ بھی خدا تعالیٰ نے انسان میں پیدا کیا اور اسے اتنا وسیع کیا ، اتنا وسیع کیا کہ ہر ماں اور ہر باپ اپنے بچہ کی ربوبیت کر رہا ہے۔پھر محمد ﷺ کو دیکھ تو تمہیں نظر آئے گا کہ آپ اس صفت کے کامل مظہر تھے اور دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جو آپ کے احسان سے باہر رہ گئی ہو۔مخلوق میں سے اہم جنس حیوان ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف انسانوں پر رحم کیا بلکہ آپ کے دائرہ شفقت میں دوسرے حیوانات بھی آگئے اور آپ نے ان کی بہتری کیلئے اپنی اُمت کو کئی احکام دیئے ہیں۔مثلاً آپ نے فرمایا کہ آزاد جانور کو باندھ کر مت رکھو اور اگر باندھ کر رکھتے ہو تو ان کے کھانے پینے کا بندو بست کرو۔اس حکم کے ماتحت ہر شخص جو کسی جانور کو اپنے گھر میں باندھ کر رکھتا ہے وہ اس بات پر مجبور ہے کہ اسے کھانے پینے کیلئے دے اور اگر نہیں دے گا تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا وہ دوزخ میں جائے گا۔پھر جانورں پر آپ نے اس قدر رحم کیا کہ فرما یا کسی جانور کوکسی دوسرے جانور کے سامنے ذبح مت کرو تا اسے تکلیف نہ ہو۔کے کسی جانور کو کند چھری سے ذبح نہ کرو۔^ اسی طرح کی جانور کو باندھ کر نشانہ بنانے سے منع کیا۔جانور پر طاقت سے زیادہ بوجھ لادنے سے روکا۔لے اسی طرح منہ پر داغ دینے کی ممانعت کی اور فرمایا اگر داغ لگانا ہی ہو تو پیٹھ پر لگاؤ۔لالے غرض جو فرائض اللہ تعالیٰ کی طرف سے جانوروں کیلئے مقرر ہیں ان کے سوا باقی ہر قسم کی تکلیف سے آپ نے انہیں محفوظ کر دیا اور پھر جو زیادہ سے زیادہ رحم جانوروں پر کیا جا سکتا تھا وہ بھی آپ نے کیا اور فرمایا جو جانور پالتو نہیں دانے وغیرہ چگتے رہتے ہیں اُن کو دانے وغیرہ ڈال دینا بھی ثواب کا موجب ہے۔چنانچہ آپ نے فرمایا ایک شخص تھا جو جانوروں کو دانے ڈالا کرتا تھا۔اللہ تعالیٰ کو اس کی یہ نیکی ایسی پسند آئی کہ اس نے اسی نیکی کے عوض اسے اسلام میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔غرض آپ کے احسانات سے حیوانات بھی باہر نہیں اور انسان باہر نہیں۔انسانوں میں سے مرد اور عورت کو لے لو۔پہلی قوموں نے مردوں کے متعلق بے شک قوانین تجویز کئے تھے مگر عورتوں کے حقوق