خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 566

خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء اندر پیدا کی ہے کہ وہ سچائی کا کامل نمونہ ہوتا ہے۔پھر الحق کے دوسرے معنی دنیا کو قائم رکھنے والے کے ہیں اور اس کا بہترین نمونہ بھی انبیاء علیہم السلام کا وجود ہوتا ہے۔جب خدا تعالیٰ کا غضب دنیا کے گناہوں کی وجہ سے بھڑ کنے والا ہوتا ہے تو اُس وقت خدا تعالیٰ کا الحق ہونا فوراً اپنے نبی کی طرف نگاہ دوڑاتا ہے اور کہتا ہے اس وجود کے ہوتے ہوئے میں اس دنیا کو کیونکر تباہ کر دوں۔پس ان کا وجود دنیا کیلئے ایک حرزا اور تعویذ ہوتا ہے اور ان کی وجہ سے دنیا بہت سے مصائب اور اللہ تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بننے سے محفوظ رہتی ہے۔اسی طرح لا إِلهَ إِلَّا هُوَ ہے۔یہ توحید کا مقام بھی ایسا ہے کہ جو شخص اس مقام کو دیکھ لیتا ہے خود تو حید کے مقام پر کھڑا ہو جاتا ہے۔آپ کہیں گے یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک انسان اللہ تعالیٰ کی توحید کا مظہر ہو جائے۔مگر یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا سمجھنا آپ لوگوں کیلئے مشکل ہو۔بالکل قریب زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ الہام نازل ہو چکا ہے کہ اَنتَ مِنّى بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيدِى وَ تَفْرِيدِى ! کہ اے مسیح موعود! تیرا میرے ساتھ وہی تعلق ہے جو تو حید کا مجھ سے تعلق ہے۔گویا تو لا اِلهَ إِلَّا هُوَ کا مظہر ہے اور مجھے لا إِلهَ إِلَّا هُوَ پیارا ہے۔اسی طرح مجھے تو پیارا ہے۔تو تو حید کے مقام کے یہ معنے ہیں کہ جس نے مقام پر پہنچ کر اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ کر دیتا ہے کہ اب دنیا میں میرا پیارا صرف ایک ہی وجود ہے اس کے سوالی میں کسی کی پرواہ نہیں کرتا۔یہ وہی بات ہے جو بعض احادیث قدسیہ میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے کہ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک ۵ کہ اے محمد یہ ساری دنیا تیری مٹھی میں آگئی ہے۔جدھر تیرا ہاتھ اُٹھے گا اُدھر ہی میرا ہاتھ اُٹھے گا۔جدھر تیری نظر ہوگی اُدھر ہی میری نظر ہو گی۔یہ توحید کا مقام ہے جو اصل مقام تو محمد ﷺ کا ہے لیکن ظلی طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی یہ مقام حاصل ہوا کی ہے۔پھر یوں بھی رسول کریم ﷺ تو حید کے مظہر تھے کہ جیسی تو حد محمد ﷺ نے قائم کی ایسی تو حید قائم کرنا تو الگ رہا کسی دوسری قوموں نے اس رنگ میں توحید کو سمجھا بھی نہیں۔یہ اس تفصیل کا موقع نہیں ورنہ میں بتاتا ہے کہ دنیا نے تو حید کو سمجھا ہی نہیں۔تو حید وہی ہے جو رسول کریم ﷺ نے بیان فرمائی۔پھر یہ بھی تو حید کا مقام تھا کہ رسول کریم ﷺ سید ولد آدم تھے یعنی دنیا کے تمام انسانوں میں سے افضل و اعلیٰ ہیں اور آئندہ بھی کسی ماں نے ایسا بچہ نہیں جنا جو آپ کے درجہ کی بلندی کو پہنچ سکے۔پھر اس لحاظ سے بھی آپ تو حید کے مقام پر تھے کہ خدا تعالیٰ کے حضور اُس کی توحید سے آپ نے ایسا تعلق قائم کیا کہ دنیا وَمَا فِيهَا