خطبات محمود (جلد 18) — Page 558
خطبات محمود ۵۵۸ سال ۱۹۳۷ء چاہا تو وہ انسانوں کیلئے رحمانیت کی صفت میں ظاہر ہوئی اور دنیا کی ہر ضرورت کو اُس نے پورا کر کے بتا دیا کہ سوائے اس کے اور کوئی خدا نہیں۔پھر الحق کی صفت نے جب ظہور کرنا چاہا جو سچے وعدے کرنے والی اور دنیا کو قائم رکھنے والی ہے تو اس نے رحیمیت کی شکل میں اپنا جلوہ دکھایا۔اور گو اَلْحَقُّ کے معنے قائم رکھنے والے کے بھی ہیں مگر چونکہ اس میں سچائی کے معنے بھی شامل ہیں ، اس لئے اس نے ی فیصلہ کیا کہ میں صفت رحیمیت کے ماتحت ہر اُس چیز کو قائم رکھوں گا جو سچائی پر مبنی ہوگی اور پھر اس کی نیکی کاتی بار بار بدلہ دوں گا اور اسے ہمیشہ کی زندگی عطا کروں گا۔پس اُس نے مخلوق میں سے سچ پر قائم ہونے والے وجودوں کو ہمیشہ کیلئے قائم رکھ کر اپنے الحق ہونے کا ثبوت دیا۔پھر ملکیت نے چاہا کہ وہ کوئی قانون جاری کرے اور جب اس نے قوانین جاری کئے تو اس نے کہا اب میں ہر ایک سے حساب لوں گا کہ اس نے قانون کی کس حد تک پیروی کی ہے اور وہ ملک يَوْمِ الدِّینِ کی صورت میں ظاہر ہوا۔تو یہ چار صفات جو اس آیت میں بیان کی گئی ہیں جو خطبہ کے شروع میں میں نے پڑھی تھی ، یہ سورۂ فاتحہ کی چار صفات کیلئے بطور منبع ہیں۔ملک نے جب اپنی جلوہ گری کی تو لازمی طور پر ملک يَوْمِ الدِّينِ کی صفت انسانوں کیلئے ظاہر ہوئی۔توحید نے جب اپنا ثبوت دینا چاہا تو لازمی طور پر اس کی کی رحمانیت کی صفت ظاہر ہوئی۔اور خدا تعالیٰ کی صفت الحق نے جب اپنا ظہور چاہا تو اس نے رحیمیت کے ذریعہ سے سچائی کے دلدادوں کو ہمیشگی کی زندگی بخشی۔پھر رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ نے چاہا کہ کوئی ایسی تی مخلوق ہو جس کی وہ ربوبیت کرے۔پس اُس نے دنیا پیدا کیا اور اس کیلئے رَبِّ العَلَمِینَ ہو کر ظاہر ہوا۔غرض رَبِّ العَلَمِينَ بھی خدا کی صفت ہے اور الرحمن بھی خدا کی صفت ہے اور مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ بھی خدا کی صفت ہے۔لیکن ملک يَوْمِ الدِّینِ کی صفت تابع ہے رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ کی صفت کے۔اگر وہ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیمِ نہ ہوتا تو رَبِّ العَلَمِینَ بھی نہ ہوتا۔اور ملِكِ يَوْمِ الدِّينَ نتیجہ ہے اس کے ملک ہونے کا۔اگر وہ ملک نہ ہوتا تو ملک يَوْمِ الدِّينِ بھی نہ ہوتا۔جس نے کوئی قانون ہی نہ بنایا ہو وہ اس کے متعلق باز پرس کرنے کا بھی کوئی حق نہیں رکھتا۔اسی طرح اگر و الحق نہ ہوتا اور تمام تر سچائیوں کا منبع نہ ہوتا اور پھر اس کے اندر دوسری چیزوں کو قائم رکھنے کی طاقت نہ ہوتی تو وہ رحیم بھی نہ ہوتا۔کیونکہ رحیمیت کی صفت ہی ہے جو بنی نوع انسان کے سچائی پر قائم ہونے کی وجہ سے انہیں اچھے سے اچھا بدلہ دیتی ہے اور انہیں ہمیشہ کیلئے قائم رکھتی ہے۔چنانچہ عربی زبان میں جس کے کی وہ