خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 559 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 559

خطبات محمود ۵۵۹ سال ۱۹۳۷ء اندر یہ خوبی ہے کہ اس کے الفاظ اس حقیقت اور فلسفہ کو بھی بیان کر دیتے ہیں جو سٹی سے تعلق رکھتے ہیں یا جن کی مسمی سے امید کی جاتی ہے۔ایک محاورہ ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ سچائی ہی دائمی زندگی کا موجب ہو جاتی ہے۔صدق عربی زبان میں سچائی کو کہتے ہیں۔جس طرح حق سچائی کو کہا جاتا ہے عربی زبان کا محاورہ ہے کہ جب کسی چیز کے دوام پر دلالت کرنا ہو تو اُسے صدق کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔مثلاً کہتے ہیں لَهُ قَدَمُ صِدْقٍ جس کے لفظی معنے تو یہ ہیں کہ اسے سچائی کا قدم حاصل ہے۔لیکن محاورہ میں اس کے یہ معنے ہیں کہ اسے وہ مقام حاصل ہے جو کبھی جاتا نہ رہے گا۔اس محاورہ سے ظاہر ہے کہ عربی زبان میں یہ حقیقت لغوی طور پر تسلیم کی گئی ہے کہ سچائی ہی دائمی زندگی بخشتی ہے اس لئے انہوں نے ہمیشہ رہنے کیلئے صدق کا لفظ ہی استعمال کرنا شروع کر دیا۔پس اَلْحَق کی صفت ہی ہے جس کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اور صفت یعنی رحیمیت اس کے بندوں کیلئے ظاہر ہو۔تا کہ ان کی سچائی کا بدلہ انہیں ابدی زندگی کی صورت میں ملے۔غرض اگر اللہ تعالیٰ اَلْحَقُّ نہ ہوتا تو الرَّحِیمُ بھی نہ ہوتا۔اسی طرح الرَّحْمن کی صفت لا إله إِلَّا هُوَ یعنی تو حید کامل کے تابع ہے یعنی توحید کامل رحمانیت کے ظہور کا موجب ہوتی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی معبود ہوتا تو وہ ہرگز الرحمن نہ ہوتا۔کیونکہ الرحمن کے معنے ہیں کہ وہ ہر چیز کی جائز ضرورت کو پورا کرتا ہے۔خواہ اس نے کوئی کام کیا ہو یا نہ کیا ہو۔اور یہ بھی ہو سکتا ہے جب ایک ہی خدا ہو۔اگر کئی خدا ہوں تو کسی کی ضرورت کوئی پوری کرے گا اور کسی کی کوئی۔یا کوئی ضرورت کوئی پوری کرے گا اور کوئی ضرورت کوئی اور۔میں اپنے پچھلے خطبہ میں بتا چکا ہوں کہ تو حید کامل کا لازمی نتیجہ رحمانیت ہے۔جب کبھی تو حید کامل اپنا ظہور کرنا چاہے گی وہ رحمانیت کی صفت میں ہی انسانوں کے سامنے آئے گی۔اس لئے کہ اگر ہماری ضرورتیں دو وجود پوری کرنے والے ہوں تو تو حید کس طرح ثابت ہو سکتی ہے۔اگر پانی کسی خدا نے دینا ہے اور روٹی کسی نے ، تو تو حید کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔لیکن جب ہم اپنی ہر ضرورت خدا تعالیٰ سے پوری ہوتے دیکھیں تو پھر ہماری عقل کہتی ہے کہ اس کے سوا کسی اور خدا کی ضرورت نہیں۔تو رحمانیت جس کے معنی ہر انسانی ضرورت پورا کرنے کے سامان مہیا کرنے کے ہیں توحید کامل کا نتیجہ ہے۔یعنی کی تو حید جب مخلوق کیلئے ظاہر ہوگی رحمانیت کے ذریعہ سے ہوگی۔غرض یہ چاروں صفات جو سورہ فاتحہ میں بیان کی گئی ہیں ان صفات کی تابع ہیں جو خدا تعالیٰ نے اَفَحَسِبْتُمُ أَنَّمَا خَلَقْنَكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا