خطبات محمود (جلد 18) — Page 557
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء تحریک جدید کے تمام مطالبات پر عمل کرنے والے صفات الہیہ کے مظہر بن سکتے ہیں (فرموده ۲۶ / نومبر ۱۹۳۷ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں نے گزشتہ جمعہ میں اس امر کے متعلق خطبہ بیان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو جو پیدا کیا ہے وہ یونہی نہیں پیدا کیا بلکہ اس کی صفات کا تقاضا تھا کہ دنیا پیدا کی جاتی اور خصوصاً انسان کی پیدائش معرض وجود میں آتی۔چنانچہ انسان کی پیدائش قرآن کریم کے بیان کے مطابق اس لئے ہوئی ہے کہ کی اللہ تعالیٰ کی چار صفات اپنے آپ کو ظاہر کرنا چاہتی تھیں۔یہ صفات اپنے منبع کے لحاظ سے تو وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے آیت اَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ ( فَتَعْلَىَ اللهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لا إلهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيم لے میں بیان فرمایا ہے۔اور بندوں کے تعلق کی کے لحاظ سے سورہ فاتحہ میں آیات الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العَلَمِينَ - اَلرَّحْمنِ الرَّحِيمِ - مَلِكِ يَوْمِ الدین آیات میں بیان فرمایا ہے۔گویا پہلی آیت میں چار صفات بطور منبع کے بیان کی گئی ہیں۔یعنی وہ صفات جنہوں نے دُنیا کی پیدائش کا تقاضا کیا لیکن ان کے نتیجہ میں جب انسان کو پیدا کیا گیا تو چار اور صفات الہیہ نے انسانوں کی خبر گیری کی۔گویا تخت شاہی کے مالک بلند شان والے مہربان رب کی طرف سے جب دنیا پیدا ہوئی تو وہ دنیا کے لحاظ سے رب العلمین بن گیا۔پھر توحید کامل نے جب اپنا جلوہ دکھانا