خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 478

خطبات محمود CLA سال ۱۹۳۷ء ہی بجھاتا ہے ، آگ نہیں جلاتا۔تو خدا تعالیٰ کا ایک چھوٹے سے چھوٹا قانون بھی دنیا کی تمام پارلیمنٹوں کے بڑے سے بڑے قوانین کے مقابلہ میں بڑا ہے۔مگر خدا تعالیٰ نے ایسے تمام قوانین خواہ وہ چھوٹے ہیں یا بڑے اربوں ارب سالوں سے ایک حقیر انسان کی خدمت کیلئے لگا رکھے ہیں۔مگر انسانوں میں سے ہزاروں نہیں کی لاکھوں ، لاکھوں نہیں کروڑوں بلکہ ہر لاکھ میں سے ننانوے ہزار نو صد ننانوے انسان ایسے ہیں کہ جب سورج ڈوبتا ہے اور شام آتی ہے تو کبھی وہ نظر اُٹھا کر بھی اوپر نہیں دیکھتے کہ اُن کے سروں پر کیا ہے۔زیادہ سے زیادہ رمضان کے مہینہ میں یا عید کے موقع پر کسی نے چاند دیکھ لیا تو دیکھ لیا اور ستاروں کی طرف تو کسی کی توجہ ہی نہیں ہوتی اور اگر ہوتی بھی ہے تو قریب کے ستاروں کی طرف۔مگر انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ لاکھوں لاکھ اور کروڑوں کروڑ ستارے جو اس کے سر پر کھڑے آنکھیں جھپک رہے ہیں ، دنیا کو قائم رکھنے کا ایک ذریعہ ہیں۔اسے یہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ یہ وہ خدائی پہرہ دار ہیں جو اس کی حفاظت کیلئے مقرر ہیں۔ان اربوں ارب ستاروں میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس کی روشنی انسان کی زندگی کے کی کام نہ آرہی ہو۔کوئی انسانی اخلاق کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، کوئی صحت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے ، کوئی غذا کی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے ، کوئی دنیا کے ذرات کو جوڑنے کا کام کر رہا ہے ، کوئی پانی برسا رہا ہے، کوئی ہوائی چلا رہا ہے اور اسی طرح تمام ستارے اپنے اپنے کام میں خاموشی سے مصروف ہیں۔مگر انسان کو کچھ پتہ ہی نہیں کہ اس کیلئے خدا نے کتنے عظیم الشان سیارے اور ستارے اور سورج اور چاند کام کیلئے لگا رکھے ہیں۔یہ جب بازار میں سے گزرتا ہے اور دیکھتا ہے کہ دو چار سو آدمی اکٹھے شور مچارہے ہیں تو حیرت سے کھڑا ہو جاتا ہے اور حیرت سے پوچھتا ہے کہ کیا بات ہے؟ وہ سو دو سو آدمی تو اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں لیکن یہ کروڑوں کروڑ ستارے جو دنیا کی آبادی سے بھی زیادہ ہیں، رات دن کام کر رہے ہیں اور ان کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں اس کی توجہ کو اپنی طرف نہیں پھراتے۔پھر یہ ایک دو آدمی کو معمولی طور پر دوڑتے ہوئے دیکھتے ہیں تو فوراً تجس کی نگاہوں سے ان کی طرف دیکھنے لگتا ہے۔لیکن بعض سیارے اس کی خدمت میں ہزاروں لاکھوں میل کی رفتار سے دوڑ رہے ہیں مگر یہ آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتا کہ کیا ہورہا ہے۔اسی لئے کہ خدا کا قانون خاموشی سے یہ سب کچھ کر رہا ہے اور ایسی طرز پر کام کی ہو رہا ہے کہ انسان کو یہ احساس بھی پیدا نہیں ہوتا کہ اس کے فائدہ کیلئے اس قدر دوڑ دھوپ ہورہی۔