خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 477

خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء اربوں بلکہ اس سے بھی زیادہ سالوں سے خدا تعالیٰ کے ان گنت فرشتے دنیا کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کی جی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔خدا تعالیٰ کے وہ زبردست آئین جن میں سے ایک چھوٹے سے چھوٹے قانون کے مقابلہ میں بھی دنیا کی تمام پارلیمنٹوں کے آئین بالکل ذلیل اور بیچ ہیں ، انسان کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔دنیا کی پارلیمنٹوں میں سے کسی ایک پارلیمنٹ کا بھی کوئی قانون ایسا نہیں جو دوسو سال تک یکساں چل سکے۔مگر خدا تعالیٰ کا ایک قانون بھی ایسا نہیں جو کروڑوں نہیں ، اربوں سالوں میں ایک دفعہ بھی بدلا ہو۔وہ خود فرماتا ہے لَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَبْدِيلًا - وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تحويلا سے دنیوی گورنمٹیں جنہیں اپنی طاقت پر ناز ہوتا ہے ، جنہیں اپنی قوتوں پر فخر ہوتا ہے ، وہ کہتی ہیں کی فلاں جگہ چھاؤنی قائم کی جائے۔وہاں چھاؤنی بن جاتی ہے لیکن ابھی سو سال نہیں گزرتے کہ وہاں سے چھاؤنی بدل کر کسی اور جگہ چلی جاتی ہے۔لیکن خدا نے کہا ہماری گرمی کا مرکز سورج میں ہے۔اس پر کروڑوں نہیں اربوں سال گزر گئے۔ایک کروڑ کے بعد دوسرا کروڑ اور دوسرے کے بعد تیسرا کروڑ آیا۔ایک لاکھ کے بعد دوسرا لاکھ اور دوسرے کے بعد تیسرا لاکھ آیا۔ایک ہزار کے بعد دوسرا ہزار آیا اور دوسرے کے بعد تیسرا ہزار آیا۔ایک دن کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا دن آیا۔ایک گھنٹہ کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا گھنٹہ آیا۔غرض زمانہ گزرا اور گزرتا چلا جاتا ہے مگر قانون وہی ہے۔دن آتا ہے اور پھر رات آتی ہے۔رات گزرتی ہے تو دن آجاتا ہے اور گرمی کا مرکز ہمیشہ سورج ہی رہتا ہے۔یہ چھاؤنی نہیں بدلتی۔پھر خدا نے کہا ہوا ئیں فلاں جگہ سے اٹھیں اور ہندوستان پر اپنا پانی برسا ئیں۔اس قانون پر لاکھوں سال گزر گئے۔ہمارے باپ دادوں کے زمانہ میں بھی یہی قانون تھا ، ان کے باپ دادوں کے زمانہ میں بھی یہی قانون تھا۔جن دنوں اسلامی حکومت تھی اُن دنوں میں بھی یہی قانون تھا۔جب ہندوؤں کا غلبہ تھا اُس وقت بھی یہی قانون تھا اور ان سے جب ڈریوڈین (DRAVIDIAN) لوگوں کا زور ہندوستان میں تھا اُن دنوں بھی یہی قانون تھا اور اب تک بھی وہیں سے ہوائیں اُٹھتیں اور ہندوستان میں بارش برسا دیتی ہیں۔خدا نے کہا آگ جلائے۔اب ساری دنیا میں قانون بدلتے رہتے ہیں ، حکومتیں بدلتی ہیں، فلسفے کے اصول بدلتے ہیں، تہذیب بدلتی ہے، تمدن بدلتا ہے مگر خدا کا قانون نہیں بدلتا آگ ہمیشہ جلاتی ہی ہے۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ اس نے کسی کی پیاس بجھا دی ہو۔پھر خدا نے کہا پانی پیاس بجھائے۔نتیجہ یہ ہے کہ پانی پیاسی