خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 479

خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء اور اگر کبھی نگاہ اُٹھاتا بھی ہے تو کبھی یہ نہیں سوچتا کہ میرے جیسی حقیر چیز کیلئے خدا نے کیا کیا سامان پیدا کر دیئے۔غرض وہ خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ ان چیزوں پر جو محض اس کے فائدہ کیلئے معرضِ وجود میں آئی ہیں نگاہ بھی نہیں ڈالتا۔اور ان تغیرات کی قیمت کو سمجھتا ہی نہیں جو اس کیلئے پیدا کئے جارہے ہیں۔ہاں وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کی قدر و قیمت کو خوب سمجھتا ہے۔وہ ایک دھیلے کی قیمت سمجھتا ہے، وہ ایک پیسہ کی کی قیمت سمجھتا ہے ، وہ ایک روپیہ کی قیمت بہت زیادہ سمجھتا ہے مگر وہ سورج اور چاند اور سیاروں اور ستاروں اور ان کروڑوں چمکنے والی ہستیوں کی جو اس پر نیک یا بداثر ڈال رہی ہیں کوئی ہستی نہیں سمجھتا۔مگر خواہ کی انسان ان چیزوں کی قیمت سمجھے یا نہ سمجھے اس امر سے کون انکار کر سکتا ہے کہ یہ سب کچھ انسانی زندگی کے قیام کیلئے ہے۔پھر ایسے انسانوں کی زندگی کے قیام کیلئے بھی ہے جو خدا تعالیٰ کو گالیاں دیتے ، اس کے نبیوں کا انکار کرتے اور اس کے کلام اور نشانات پر ہنسی اُڑاتے ہیں۔پس اگر یہ سارے کا سارا عالم ایک ادنیٰ سے ادنی انسان کی خدمت میں لگا ہوا ہے تو پھر کیا کہنا ہے اس انسان کا جس کے متعلق خدا نے یہ کہا کہ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک اور پھر کیا کہنا اس انسان کا جن کے متعلق و لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک کا مصداق یہ الفاظ کہے کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ میری اُمت کی ابتداء وه اچھی ہے یا انتہاء۔غرض یہ مبارک زمانہ ہم کو ملا مگر ہم میں سے بہت لوگوں کو غور کرنا چاہئے کہ کیا انہوں نے خدا کے مسیح کی اتنی بھی قدر کی جتنی مظہر جان جاناں نے ایک لڈو کی کی تھی۔دلی کا بنا ہوا بالائی کا لڈو حضرت ی مظہر جان جاناں کے سامنے آیا۔وہ خدا کا ایک عارف بندہ تھا اُس نے لڈو کو جو نہی دیکھا لڈو نے اُس کی ساری توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیا اور دنیا وَمَافِیهَا کو اس کے ذہن سے اُتار دیا کیونکہ اس لڈو میں اسے جی خدا کا جلوہ دکھائی دیا۔اس نے سارالڈو نہیں کھایا بلکہ لڈو کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا چکھا اور اس ٹکڑے میں پھر کی اسے خدا تعالیٰ کا جلال نظر آیا حتی کہ اس کے چکھنے پر اسے باقی تمام لڈو بھی بھول گیا۔دنیا کو خدا از مین میں نظر نہیں آتا ، اسے خدا سورج چاند میں نظر نہیں آتا، اسے خدا سارے عالم میں بھی نظر نہیں آتا۔مگر مظہر جان جاناں کو ایک لڈو میں نظر آ گیا اور چونکہ خدا کا جلوہ جب نظر آئے تو وہ ترقی کرتا ہے آخر وہ جلوہ انہیں لڈو کے اس ٹکڑا میں نظر آ گیا جو انہوں نے اپنے منہ میں ڈالا تھا اور خود لڈو بھی ان کی نظروں۔اوجھل ہو گیا۔مگر کیا ہماری جماعت کے دوست حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قدر اس لڈو کے ایک ذره ای